‘‘خطے میں غیر معمولی تناؤ کے ماحول اور غزہ کی جنگ کے پھیلنے کے عالمی خدشات کے درمیان عراق نے کہا ہے کہ ہم وسیع جنگ میں داخل ہونے سے بچنے کے لیے اندرونی اور بیرونی سطح پر اپنی کوششیں کر رہے ہیں۔‘‘
ان خیالات کا اظہار وزیر خارجہ فواد حسین نے ‘العربیہ‘ کو ایک خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ فواد حسین کے بقول ان کا ملک تنازع کی توسیع کو روکنے کے لیے اندرونی اور بیرونی سطح پر آگے بڑھ رہا ہے۔
فواد حسین نے یہ بھی کہا کہ پورا خطہ خطرے کی زد میں ہے لیکن غزہ میں جنگ بندی کے لیے بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرنے سے علاقائی طور پر نسبتاً پرسکون ہونے میں مدد مل سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کی کہ عراق اس نظام کا حصہ ہے جو مدد کر رہا اور امن چاہتا ہے۔
تاہم انہوں نے ساتھ ہی واضح کیا کہ ان بین الاقوامی کوششوں کے ابھی تک نتائج حاصل نہیں ہوئے ہیں اور غزہ میں جنگ بندی نہ ہونے کی صورت میں کشیدگی برقرار رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ عراق کو حالت جنگ میں دھکیلنا خطرناک ثابت ہو گا۔ حکومت اور سیاسی جماعتیں اس مسئلے کو سمجھتے ہیں۔
ہم نے واشنگٹن کو روک دیا
انہوں نے انکشاف کیا کہ عراقی سفارتی کوششیں واشنگٹن کو عین الاسد بیس پر بمباری کا جواب دینے سے روکنے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ جہاں تک ملک سے بین الاقوامی اتحادی افواج کے انخلا کے حوالے سے امریکی فریق کے ساتھ جاری فوجی بات چیت کا تعلق ہے انہوں نے تصدیق کی کہ بات چیت جاری ہیں اور اسے منسوخ نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم انہوں نے نشاندہی کی کہ خطے کے حالات، کشیدگی اور ممکنہ جنگ نے حالات کو ایک سال پہلے کے حالات سے مختلف بنا دیا ہے۔
ایرانی ردعمل
گذشتہ ماہ کے اواخر میں دارالحکومت تہران میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کے قتل پر متوقع ایرانی ردعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے فواد حسین نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنے کے لیے انتظار کرنا چاہیے کہ آیا وہ جواب دیں گے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عراقی حکومت اور پارلیمنٹ ہی جنگ اور امن کا فیصلہ کرتی ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ عراقی حکام غیر ملکی مشنز کے ساتھ ساتھ اپنی سرزمین پر موجود غیر ملکی مشیروں اور سفارت کاروں کو کسی بھی حملے سے تحفظ فراہم کر رہے ہیں۔ یاد رہے 31 جولائی کو ایرانی دارالحکومت تہران کے قلب میں اسماعیل ہنیہ کے قتل کے بعد سے ایران نے اسرائیل کے خلاف فیصلہ کن جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ 30 جولائی کو اسرائیل نے بمباری کر کے لبنان میں حزب اللہ کے سینئر رہنما فواد شکر کو بھی قتل کر دیا تھا۔