اسرائیلی فوج کے مستعفی ہونے والے انٹیلی جنس چیف نے اپنے ادارے کی ملکی سلامتی کے لیے کی گئی کوتاہی اور ذمہ داری کے پورا نہ کر سکنے کو قبول کیا ہے ۔ ان کے مطابق ' سات اکتوبر کو ان کے زیر کمان اسرائیلی فوج کی انٹیلی جنس ناکام رہی۔ '
میجر جنرل اہرون ہیلیوا پچھلے 38 سال سے فوج کا حصہ رہے ہیں اور ان کی حیثیت فوج کے بڑوں کی تھی۔ اپنی کوتاہی کو تسلیم کرتے ہوئے انہوں نے ماہ اپریل میں استعفیٰ دینے کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے کہا' ہم خوفناک حملے کو روکنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔' وہ اپنی ناکامی تسلیم کرنے والے سینیئر ترین اسرائیلی فوجی افسروں میں سے ایک ہیں۔
میجر جنرل ہیلیوا نے بدھ کے روز ایک تقریب کے دوران کہا' انٹیلی جنس کی ناکامی میری غلطی تھی۔ انہوں نے اس موقع پر یہ مطالبہ بھی کیا کہ اس سلسلے میں قومی سطح پر تحقیقات کرائی جائیں ۔تاکہ گہرائی میں جا کر سمجھا جائے کہ ہماری ناکامی کیوں ہوئی۔ '
اسرائیلی تاریخ کا سات اکتوبر کا فلسطینی حملہ بد ترین تھا۔ جس نے اسرائیل اور اس کے سیکیورٹی سسٹم کو ہلاکر رکھ دیا۔ اس حملے میں اسرائیل کے پیش کردہ اعدادو شمار کے مطابق 1200 اسرائیلی ہلاک ہوگئے۔جبکہ 250 کے قریب اسرائیلیوں کو حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے قیدی بنا لیا۔ جن میں سے ایک سو سے زیادہ ابھی القسام بریگیڈز کی قید میں ہیں اور مبینہ طور پر غزہ میں ہی موجود ہیں۔
اسرائیلی فوج کے سربراہ ہرزی حیلوی اور انٹیلی جنس ادارے شین بیت کے سربراہ رونن بار دونوں نے بھی اپنی ناکامیوں کا اعتراف کیا تھا مگر جنگ کے دوران انہیں گھر نہ بھیجنے کا فیصلہ ہوا تھا۔
اہم بات ہے کہ اسرائیل کی ساری فوجی قیادت نے اپنی غلطی اور ناکامی تسلیم کر لی مگر سیاسی قیادت اور حکومت کے اعلی ترین عہدے داروں نے کبھی ایسا نہیں کیا کہ اس سے ان کے حکومت میں رہنے کا جواز کھو جاتا ہے۔ بلکہ وہ ساری ذمہ داری فوجی قیادت پر ہی ڈالتے ہیں۔ سیاسی قائدین اس جنگ میں سے اپنی اگلی انتخابی کامیابی بھی کشید کرنے کے لیے اسرائیلی بچوں کو جنگ میں جھونکے ہوئے ہیں۔