موسمیاتی پروفیسر ڈاکٹر عبداللہ المسند نے انکشاف کیا ہے کہ پیپل کے درخت سعودی عرب میں بڑے اور قدیم درختوں کی ایک قسم ہے۔ یہ درخت استوائی اور شبہ استوائی علاقوں کا ایک مقامی درخت سمجھاتا ہے۔ ڈاکٹر عبداللہ المسند نے ’’ ایکس‘‘ پر کہا کہ اس قسم کے درخت کی خصوصیات اس کے بڑے تنوں اور چوڑے اور گھنے پتوں سے ہوتی ہے ۔ یہ قدرتی طور پر سعودی عرب سمیت کئی ممالک میں پایا جاتا ہے۔ یہ سعودی عرب کے جنوب مغربی علاقے خاص طور پر مرطوب آب و ہوا والے علاقوں میں ہوتا ہے۔
انہوں نے نشاندہی کی ہے کہ السروات کے پہاڑ خاص طور پر تہامہ، عسیر اور جازان ایسے مقامات ہیں جہاں آپ کو پیپل (اللبخ) کے درخت مل سکتے ہیں۔ان کی عمریں سینکڑوں سال تک پہنچتی ہیں# بعض صورتوں میں شاید اس سے بھی زیادہ عمر کے درخت ہوتے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطاابق ان میں سے کچھ درخت 500 سال سے زیادہ پرانے ہو سکتے ہیں۔
عبد اللہ المسند نے مزید کہا کہ پیپل ( Ficus ) کے درخت 15 سے 30 میٹر تک کی اونچائی تک پہنچ سکتے ہیں۔ بعض اوقات کچھ غیر معمولی صورتوں میں اس سے بھی زیادہ بلند ہو جاتے ہیں۔ درخت کے تنے کا قطر کئی میٹر تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ خطے کے سب سے بڑے درختوں میں سے ایک درخت ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس کے بڑے سائز اور اس کے پتوں کی کثافت کی بدولت فکس کا درخت ایک وسیع سایہ فراہم کرتا ہے جو سورج کی گرمی سے بچاتا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ گرم دن میں آرام کرنے کے لیے ایک پسندیدہ جگہ ہے۔ اس درخت کی جڑیں اپنے قریب موجود فٹ پاتھوں اور سہولیات کی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں۔ پانی کی تلاش میں اس کی جڑیں پھیلتی ہیں۔ اس لیے اس درخت کو کھیتوں اور وادیوں میں اگانا بہتر ہے۔