ایرانی صدر مرحوم ابراہیم رئیسی کے ہیلی کاپٹر کے گر کر تباہ ہونے کی تحقیقات کے نتیجے میں کسی بھی سبوتاژ کی ابتدائی قیاس آرائی کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ جبکہ نیم سرکاری خبر رساں ادارے نے بدھ کو ایرانی سیکیورٹی سے متعلق ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر کے کریش ہونے کی وجہ موسم تھا۔ اس موسمی خرابی کے دوران ہیلی کاپٹر خود کو سنبھال نہ سکا تھا اور حادثے کا شکار ہو گیا۔
یہ بات ایرانی سیکیورٹی اور تحقیقات سے متعلق ذرائع نے بدھ کے روز کہی ہے۔ یاد رہے ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کو حادثہ ماہ مئی میں پیش آیا تھا۔ حادثے میں صدر ابراہیم رئیسی، ان کے ساتھ وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان اور دیگر اعلیٰ ایرانی حکام موجود تھے۔ جن میں سے کوئی زندہ نہ بچ سکا تھا۔
ایران کے سیکورٹی سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تحقیقاتی رپورٹ کو باضابطہ طور پر شائع کرنے کی ذمہ داری و اختیار آرمڈ فورسز جنرل سٹاف کے کمیونیکیشن سنٹر کے پاس ہے۔
ذرائع نے اس سے پہلے ابتدائی طور پر سامنے آنے والی ان اطلاعات کو مکمل طور پر غلط قرار دیا ہے۔
مئی میں ہی ایرانی فوج نے ابتدائی تحقیقات میں بتا دیا تھا کہ ہیلی کاپٹر کے ساتھ کسی غلط کارروائی کے بارے میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
نیم سرکاری خبر رساں ادارے فارس کے مطابق اب حتمی تحقیقات میں یہ بات یقین کے ساتھ کہی گئی ہے کہ یہ مکمل طور پر ایک حادثہ تھا۔
رپورٹ کے مطابق ہیلی کاپٹر حادثے کی وجوہات دو رہی ہیں ۔ ایک یہ کہ موسم خراب تھا اور دوسرا اس موسمی خرابی میں ہیلی کاپٹر خود کو سنبھال نہیں سکا۔