بیروت بندرگاہ پر دھماکہ: پوپ کی سوگوار خاندانوں سے ملاقات، ’حق و انصاف‘ پر زور

لبنان شرقِ اوسط کی جنگ کی "قیمت ادا کر رہا ہے": پوپ کا اظہارِ افسوس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پوپ فرانسس نے پیر کو بیروت کی بندرگاہ پر چار سال قبل ہونے والے تباہ کن دھماکے پر "انصاف" کا مطالبہ اور افسوس کا اظہار کیا کہ لبنان شرقِ اوسط کی جنگ کی "قیمت ادا کر رہا ہے"۔

وہ چار اگست 2020 کو دنیا کے ایک سب سے بڑے غیر جوہری دھماکے کے متأثرین سے ملاقات کے دوران ویٹیکن میں گفتگو کر رہے تھے۔

کسی کو بھی اس دھماکے کا ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا جس میں 220 سے زائد افراد ہلاک اور کم از کم 6500 زخمی ہوئے تھے اور دارالحکومت کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا تھا۔

ویٹیکن کے مطابق انہوں نے بند کمرے میں ملاقات میں کہا، "میں آپ کے ساتھ مل کر حق و انصاف کے لیے دعا گو ہوں جو ابھی تک نہیں ہوا۔"

"ہم سب جانتے ہیں کہ مسائل پیچیدہ اور مشکل ہیں اور یہ کہ مخالف طاقتیں اور مفادات اپنا اثر و رسوخ محسوس کرواتے ہیں۔ پھر بھی حق و انصاف کو باقی سب پر غالب ہونا چاہیے۔"

انہوں نے مزید کہا، "اب چار سال ہو چکے ہیں۔ لبنانی عوام اور سب سے بڑھ کر آپ کو ایسے قول و فعل کا حق حاصل ہے جو ذمہ داری اور شفافیت ظاہر کریں۔"

پوپ نے یہ بھی کہا کہ لبنان شرقِ اوسط میں جنگ کی "قیمت ادا کر رہا تھا"۔ اس سے ایک دن قبل اسرائیل نے ملک میں فضائی حملے کیے جس کے مطابق اس نے حزب اللہ کے "ہزاروں" راکٹ لانچر تباہ کر دیئے۔

انہوں نے اسرائیل اور فلسطینی علاقوں میں جنگ کی وجہ سے "بڑی تعداد میں بے گناہ لوگوں کو مرتے" دیکھ کر افسوس کا اظہار کیا "جس کی لبنان قیمت ادا کر رہا ہے"۔

اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس کے تقریباً 100 لڑاکا طیاروں نے 270 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا جن میں سے "90 فیصد کم فاصلے تک مار کرنے والے راکٹ تھے جن کا مقصد شمالی اسرائیل کو نشانہ بنانا تھا"۔

طاقتور ایرانی حمایت یافتہ لبنانی مزاحمت کار گروپ حزب اللہ نے اس بات کی تردید کی کہ ہزاروں لانچرز تباہ ہو گئے یا اسرائیل نے کسی بڑے حملے کو ناکام بنا دیا۔

اس نے اصرار کیا کہ وہ اپنا ایک ڈرون حملہ اور راکٹوں کی بوچھاڑ کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

اس کے نتیجے میں شاید 10 ماہ کی جنگ میں گولہ باری کا سب سے بڑا تبادلہ ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں