غزہ کی مقامی رہائشی حنان بایوک کے ہاں جنگ سے پہلے یروشلم میں جو تین جڑواں بچے پیدا ہوئے تھے، وہ اب ایک سال کے ہو چکے ہیں۔ انہوں نے اپنی ماں کو صرف ایک بار دیکھا ہے اور حنان کو خدشہ ہے کہ وہ "ان کے بغیر مر جائیں گی۔"
26 سالہ نوجوان خاتون کو 24 اگست 2023 کو نجوا، نور اور نجمہ کی پیدائش کے بعد تنہا فلسطینی سرزمین واپس جانا پڑا کیونکہ ان کا اسرائیلی سفری اجازت نامہ ختم ہو چکا تھا۔
سات سال تک تکلیف دہ آئی وی ایف طریقہ کار کے بعد بایوک کو غزہ سے باہر نکلنے اور الحاق شدہ مشرقی یروشلم کے المقاصد ہسپتال میں بچے کی پیدائش کا اجازت نامہ ملا۔
گاڑی میں غزہ واپس جانے سے "بمشکل ڈیڑھ گھنٹہ" قبل انہوں نے انکیوبیٹرز میں اپنے بچوں کی ایک جھلک دیکھی جب ان کے اجازت نامے کی مدت "ختم ہو گئی اور ہسپتال نے انہیں جانے کو کہہ دیا۔
ان کی بیٹیوں نے کئی ہفتے انکیوبیٹرز میں گذارے تھے جن کی فراہمی میں گذشتہ اکتوبر میں اسرائیل اور حماس کی جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی غزہ کے ہسپتالوں میں کمی تھی۔ اس کے بعد بائیوک کو اکتوبر کے اوائل میں واپس آنا تھا۔
'جنگ سے دور'
پانچ اکتوبر کو ان کے خروج کے نئے اجازت نامے کے لیے درخواست دینے کے دو دن بعد حماس نے ایریز ٹرمینل کو دھماکے سے اڑا دیا جو غزہ سے اسرائیل میں داخلے کا واحد مقام ہے۔
حماس کے حملے میں 1198 اسرائیلی ہلاک ہوئے۔ جوابی اسرائیلی کارروائی میں اب تک چالیس ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں بیشتر بچے اور خواتین ہیں۔
بائیوک کی طرح حبا ادریس نے بھی خود کو جنگ میں گھرا ہوا پایا اور وہ اپنی واحد بیٹی سیدا کو لینے یروشلم واپس نہیں آ سکی تھیں جس کی قبل از وقت پیدائش دو ماہ قبل مقاصد ہسپتال میں ہوئی تھی۔
27 سالہ نوجوان خاتون کو امید تھی کہ وہ اپنے نوزائیدہ بچے کو شمالی غزہ کی پٹی میں شجاعیہ میں گھر پر اپنے شوہر صالح کے پاس واپس لے آئیں گی۔
اس کے بجائے یہ جوڑا نو بار اسرائیلی فضائی حملوں یا انخلاء کے احکامات کی وجہ سے بے گھر ہو چکا ہے اور ان کے شوہر صالح نے صرف سیدا کی تصاویر دیکھی ہیں۔
انہوں نے روتے ہوئے کہا، "میں اپنی بیٹی کو دیکھنا چاہتی ہوں، مجھے اس سے الگ ہونے پر بہت تکلیف ہوتی ہے۔"
حنان بائیوک کو بھی ان کے گھر سے زبردستی نکلنا پڑا اور اب وہ جنوب میں بے گھر افراد کے کیمپ میں اپنے سات سسرالیوں کے ساتھ مل کر ایک ہی خیمے میں رہ رہی ہیں۔
غزہ میں فون نیٹ ورک کبھی کبھار ہی کام کرتا ہے۔ ایسا ہی ایک نایاب دن تھا جب وہ اے ایف پی سے بات کرنے میں کامیاب رہیں۔ انہوں نے بتایا، "یہ بات مجھے پاگل کر دیتی ہے۔ مجھے حاملہ ہونے میں اتنا وقت لگا اور اب میں ہر وقت روتی رہتی ہوں۔ بعض اوقات سوچتی ہوں کہ میرے مرنے سے پہلے میری بیٹیاں غزہ واپس لوٹ آئیں کیونکہ میں نے انہیں کبھی بوسہ نہیں دیا لیکن پھر میں خود کو روک لیتی ہوں اور خود سے کہتی ہوں کہ ان کے لیے جنگ سے دور رہنا ہی بہتر ہے۔"
مقاصد ہسپتال میں واپس نوزائیدہ بچوں کے انتہائی نگہداشت یونٹ کے ڈائریکٹر حاتم خماش کہتے ہیں کہ عام حالات میں نور، نجمہ اور نجوا کو اتنے لمبے عرصے تک رکھنے کے لیے جگہ نہ ہوتی۔
'میں ہر بار روتی ہوں'
لیکن ہسپتال میں بچوں کی پیدائش کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے کیونکہ اسرائیل نے غزہ سے آنے والی ماؤں کو سفری اجازت نامے کا اجراء روک دیا ہے اور مقبوضہ مغربی کنارے کی ماؤں کو سفری اجازت ناموں کی تعداد کم کر دی ہے۔
زیادہ چوکیوں کے اکثر اوقات بند ہونے کی وجہ سے اجازت نامے کے حامل افراد بھی یروشلم میں ماہرِ علاج تک رسائی کے لیے جدوجہد کرتے نظر آتے ہیں۔
خماش نے کہا، "جنگ سے پہلے ہمارے محکمہ میں غزہ کے سات یا آٹھ بچے ہوتے تھے جو بیک وقت 30 بچوں کو رکھ سکتے ہیں۔"
اکتوبر سے کوئی نہیں آیا "اور مغربی کنارے سے کئی بیمار لوگ ہم تک نہیں پہنچ سکتے۔"
لیکن ہسپتال کے کارکنان مصروف رہتے ہیں ان لوگوں کی طرح جو بائیوک کو فون کرتے ہیں کہ وہ اپنی تینوں بیٹیوں سے بات کر سکیں۔
بائیوک نے کہا، "میرے شوہر بات نہیں کر سکتے۔ میں کرتی ہوں اور جب بھی رابطہ ہوتا ہے تو میں روتی ہوں۔ مجھے خدشہ ہے کہ میری بیٹیاں مجھے جانے بغیر بڑی ہوں گی۔"
-
وڈیو : غزہ کی پٹی میں 'پیچیدہ کارروائی' کے ذریعے اسرائیلی یرغمالی کی بازیابی
اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے میں کارروائی کے ذریعے آزاد کرائے جانے ...
مشرق وسطی -
اقوامِ متحدہ غزہ میں امداد پہنچانے کے لیے 'جو ممکن ہے' کر رہا ہے
اسرائیل کے بار بار انخلاء کے احکامات امداد کی فراہمی، پولیو ویکسین مہم میں ...
مشرق وسطی -
غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ 40534 فلسطینی قتل ، 93783 زخمی
اسرائیل کی غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جنگ میں بدھ کے روز تک 40534 فلسطینیوں کو قتل ...
مشرق وسطی