اقوامِ متحدہ غزہ میں امداد پہنچانے کے لیے 'جو ممکن ہے' کر رہا ہے

اسرائیل کے بار بار انخلاء کے احکامات امداد کی فراہمی، پولیو ویکسین مہم میں حائل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

غزہ کی پٹی میں اقوامِ متحدہ کی امدادی کارروائیاں منگل کو جاری رہیں جس سے ایک دن قبل اقوامِ متحدہ کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی کوششیں رک گئیں کیونکہ اسرائیل کے انخلاء کے نئے احکامات سے ادارے کا مرکزی آپریشن سینٹر بند ہونے پر مجبور ہو گیا تھا۔

ترجمان سٹیفن دوجارک منگل کے روز اقوامِ متحدہ کے اس عہدیدار کے تبصرے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آئے جنہوں نے پیر کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔ کیا غزہ کے حالات نے پیر کو اقوامِ متحدہ کی امداد کی ترسیل روک دی تھی، اس سوال پر دوجارک نے صحافیوں کو بتایا: "گذشتہ روز کے حالات نے ہمارے لیے کام کرنا انتہائی مشکل کر دیا۔"

انہوں نے کہا، "ہمارے پاس جو کچھ ہے، اس سے ہم جو ممکن ہے وہ کر رہے ہیں۔ ہم شروع سے کہہ رہے ہیں - امداد کی فراہمی جاری ہے ہر موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، ہر اس شگاف کو پُر کر کے جو ہم کر سکتے ہیں۔ اس لیے ہر صورتِ حال کا دن بہ دن، گھنٹے کے حساب سے جائزہ لیا جاتا ہے۔"

اقوامِ متحدہ کے تحفظ اور سلامتی کے سربراہ گلز میکاؤڈ نے منگل کے روز کہا کہ ہفتے کے آخر میں اسرائیلی فوج نے وسطی غزہ میں دیر البلح میں اقوامِ متحدہ کے 200 سے زائد اہلکاروں کو دفاتر اور رہائش گاہوں سے نکل جانے کے لیے صرف چند گھنٹوں کا نوٹس دیا۔

انہوں نے کہا، پولیو کے قطرے پلانے کی ایک وسیع مہم جلد ہی شروع ہونے والی ہے جس کے لیے اقوامِ متحدہ کے عملے کی بڑی تعداد کا غزہ میں داخل ہونا ضروری ہو گا تو ایسے میں "شاید ہی کوئی وقت اس سے بدتر ہو"۔

انہوں نے ایک بیان میں کہا، "اقوام متحدہ غزہ میں رہنے کے لیے پرعزم ہے۔ انسانی امداد کی ترسیل جاری ہے - ہم قابلِ برداشت خطرے کے سب سے اوپری حلقوں میں کام کر رہے ہیں جس کے لحاظ سے یہ ایک زبردست کارنامہ ہے۔"

بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی نے منگل کے روز کہا کہ اسرائیل کی طرف سے انخلاء کے نئے احکامات نے اسے اور دیگر انسانی امدادی گروپوں کو "امدادی کارروائیاں روکنے پر مجبور کر دیا جبکہ اس دوران شہریوں کے لیے صورتِ حال پہلے ہی سنگین ہے۔"

تنظیم نے ایکس پر پوسٹ کیا، "یہ اشد ضروری ہے کہ انسانی ہمدردی کے ادارے اور لوگ اپنا کام جاری رکھیں، نقلِ مکانی یا فوجی کارروائیوں کے کسی خطرے کے بغیر۔ ہم تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ شہریوں کی حفاظت کریں اور ہر وقت انسانی بنیاد پر امداد کی رسائی آسان بنائیں۔"

یاد رہے کہ غزہ جنگ سے علاقے کی دو اعشاریہ تین ملین آبادی کی بیشتر تعداد بےگھر ہے، 40,000 سے زائد افراد لقمۂ اجل بن چکے ہیں، 92,000 سے زائد زخمی ہیں اور تقریباً 80 فیصد عمارات اور بنیادی ڈھانچے تباہ ہو چکے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور نے منگل کے روز کہا کہ اسرائیل نے غزہ کی آبادی کو بارہا کہا ہے کہ "المواصی میں اسرائیل کے مقرر کردہ زون تک محدود رہیں جو صرف 41 مربع کلومیٹر یا غزہ کے کل رقبے کے تقریباً 11 فیصد پر محیط ہے۔ "

ادارے نے کہا کہ 30,000 سے 34,000 افراد فی مربع کلومیٹر کی بڑی تعداد کی وجہ سے پانی، صفائی اور حفظانِ صحت کی فراہمی، صحت کی خدمات، تحفظ اور پناہ جیسے ضروری وسائل کی شدید قلت مزید سنگین ہو گئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size