سعودی عرب: پہلی بار جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جین تھراپی کے ذریعے کامیاب علاج
علاج سے تھیلیسیمیا کے شکار بچے کی زندگی بچ گئی
سعودی عرب میں طب اور علاج کی دنیا میں ایک نئی کامیابی نے تھیلیسیمیا کے شکار ایک بچے کی جان بچانے میں مدد کی ہے اور اس کامیابی کو اس موذی بیماری کے علاج میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
وزارت نیشنل گارڈز کے زیرانتظام سعودی عرب کے دارالحکومت الریاض کے کنگ عبداللہ میڈیکل سٹی کی اس نئی کامیابی کو موروثی جینیاتی خون کے عوارض کے علاج کے لیے کلینیکل چیک اپ اور تحقیق کے دائرہ سے باہر دنیا میں پہلا کیس سمجھا جاتا ہے۔۔
یہ علاج 13 سالہ بچے کی بیماری کے لیے کیا گیا جوکرسپر جینیاتی تبدیلی کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے جین تھراپی (کاسیکفی)کے ذریعے کیا گیا۔
بچہ خون کی کمی (میجر تھیلیسیمیا ) کا شکار ہے۔ جب سے یہ بیماری دریافت ہوئی ہے اس کے مریضوں کوہر 3 ہفتوں میں وقفے وقفے سے خون کی منتقلی کی ضرورت ہوتی ہے۔
مریض کو خلیات کی کامیاب پیوند کاری اور صحت یاب ہونے کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق آنے والے دنوں میں کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں سکیل سیل انیمیا اور میڈیٹرینین انیمیا کے کئی دوسرے مریضوں کے لیے اس طرح کی جین تھراپی کا انعقاد دیکھنے کو ملے گا۔
ریاض میں کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی (KAMC-RD) سنہ 1982ء میں قائم کیا گیا تھا۔اس نے مئی 1983ء میں مریضوں کی خدمت شروع کی۔ اسے مملکت سعودی عرب میں صحت کی دیکھ بھال کے سب سے جامع شہروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، کیونکہ یہ میڈیکل سٹی ملازمین کو ہر سطح کی دیکھ بھال فراہم کرتا ہے۔ شروع میں اسے وزارت برائے نیشنل گارڈ اور اس کے ملازمین اور خاندانوں کی طبی دیکھ بحال تک محدود تھا مگراب اسے جدید ترین طبی سہولیات کے حوالے سے انتہائی اہمیت کا حامل ایک پبلک طبی مرکز سمجھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ میڈیکل سٹی اپنے طبی اہلیت کے نظام کے ذریعے عام مریضوں کوبھی جدید خصوصی نگہداشت سہولت فراہم کرکے قومی صحت کی دیکھ بھال کے نظام میں حصہ ڈالتا ہے۔ اس وقت ریاض کے کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی میں 1,973 آپریٹنگ بیڈز ہیں جن میں 2,451 ڈاکٹرز، ڈینٹسٹ، 8,584 صحت کے کارکن اور ماہرین جب کہ 5,282 پر مشتمل انتظامی عملہ اور معاون ماہرین شامل ہیں۔