ایران کی جانب سے گذشتہ ڈھائی برس کے دوران میں روس کو سیکڑوں ڈرون طیارے فراہم کیے جانے کے بعد اب ایسا نظر آ رہا ہے کہ تہران عنقریب اپنے حلیف ماسکو کو بیسلٹک میزائل بھی فراہم کرے گا۔ یہ فراہمی جدید روسی سوخوی لڑاکا طیاروں کے مقابل ہو سکتی ہے۔
بلومبرگ نیٹ ورک کے مطابق با خبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یورپی ذمے داران توقع کر رہے ہیں کہ تہران جلد ہی بیلسٹک میزائل ماسکو کے حوالے کرے گا۔ اس اقدام کے نتیجے میں یوکرین کے حلیفوں کی جانب سے جلد رد عمل سامنے آ سکتا ہے۔ ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ روس یوکرین تنازع میں ایک تشویش ناک پیش رفت ہو گی۔
اگرچہ ایک ذمے دار نے غالب گمان ظاہر کیا ہے کہ میزائلوں کی کھیپ کی ترسیل آئندہ چند روز میں شروع ہو جائے گی تاہم ذرائع نے اس سلسلے میں میزائلوں کی خصوصیات یا تعداد کی تفصیل نہیں بتائی۔
امریکا اور نیٹو اتحاد میں شامل دیگر حلیف ممالک تہران کو بارہا اس اقدام سے خبردار کر چکے ہیں۔
مذکورہ ذرائع کے مطابق روس کو بیسلٹک میزائل کی منتقلی کے سبب ایران کو اضافی پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے گذشتہ روز پیر کو تصدیق کی تھی کہ ان کے ملک اور تہران کے بیچ جلد ہی ایک جامع سمجھوتا طے پا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ایران کی نئی قیادت کے ساتھ ہمارے تعلقات کے حوالے سے علامتی اقدام ہو گا۔
با خبر ذرائع نے گذشتہ ماہ (اگست) تصدیق کی تھی کہ تہران نے روسی ساخت کے "سوخوی 35" لڑاکا طیاروں کے حصول کے لیے ماسکو پر دباؤ ڈالا تھا۔ ایرانی وزارت دفاع ایک برس پہلے اعلان کر چکی ہے کہ روس سے Mi-28H اور Yak-130 لڑاکا ہیلی کاپٹروں کے علاوہ Su-35 لڑاکا طیاروں کے حصول کے لیے معاہدے طے پا چکے ہیں۔
تاہم بعد ازاں دونوں ملکوں کے سرکاری ذرائع میں سے کسی نے بھی جدید سوخوی طیارے کی حوالگی کی تصدیق نہیں کی۔
یاد رہے کہ بیلسٹک میزائلوں کو کروز میزائل یا ڈرون طیارے سے زیادہ تیز رفتار شمار کیا جاتا ہے۔ یہ زیادہ بڑی مقدار میں وزن بھی لے کر جا سکتے ہیں۔
سوخو - 35 طیارے سوخوی - 27 طیاروں کی زیادہ جدید اور ترقی یافتہ شکل ہے۔ یہ اپنی خصوصیات کی بنا پر امریکی لڑاکا طیاروں کے لیے زیادہ بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔
گذشتہ چند برسوں کے دوران میں بالخصوص 2022 میں یوکرین پر روسی حملے کے بعد ماسکو اور تہران کے درمیان قربت سامنے آئی ہے۔ اس عرصے میں سیکڑوں پابندیوں میں گھرے روس نے چین، شمالی کوریا اور ایران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کیں تاکہ ان پابندیوں پر غالب آ سکے۔