نیتن یاہو کے حریف گینٹز کی فلاڈیلفی مؤقف پر تنقید، یرغمالی کے معاہدے پر زور

فلاڈیلفی راہداری کا معاملہ جنگ بند مذاکرات میں کلیدی اختلافی نکتہ رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل کے دیرینہ تجربہ کار فوجی بینی گینٹز نے منگل کو کہا، اسرائیل کو سکیورٹی وجوہات کی بناء پر جنوبی غزہ کے سرحدی علاقے میں فوج رکھنے کی ضرورت نہیں ہے اور اس بات کو غزہ کی پٹی سے بقیہ یرغمالیوں کو واپس لانے کے معاہدے کو روکنے کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔

ایک سابق جنرل اور چیف آف سٹاف بینی گینٹز جو جون میں مستعفی ہونے تک وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی جنگی کابینہ کا حصہ رہے تھے، انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ ایران ہے، نہ کہ نام نہاد فلاڈیلفی کوریڈور جو مصر کی سرحد سے متصل غزہ کی پٹی کے جنوبی کنارے پر واقع ہے۔

نیتن یاہو کو اس بات پر پختہ یقین ہے کہ اسرائیل کو فلاڈیلفی میں فوجیوں کی ضرورت ہے۔ پیر کے روز ان کے تبصروں کے جواب میں ایک نیوز کانفرنس میں گینٹز نے کہا کہ یہ گذرگاہ حماس اور دیگر فلسطینی مزاحمت کاروں کو غزہ میں اسلحے کی سمگلنگ سے روکنے کے لیے اہم ہے لیکن یہاں موجود فوجی "آسان ہدف" ہوں گے اور سرنگوں کو نہیں روکیں گے۔

انہوں نے نیتن یاہو کے اس دعوے کی بھی تردید کی کہ اگر اسرائیل فلاڈیلفی سے انخلاء کر جائے تو بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے وہاں واپسی مشکل ہو جائے گی۔

گینٹز نے کہا، "اگر نیتن یاہو یہ نہیں سمجھتے کہ سات اکتوبر کے بعد سب کچھ بدل گیا ہے اور اگر وہ فلاڈیلفی واپس جانے کے لیے بین الاقوامی دباؤ برداشت کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تو عہدہ چھوڑ دیں اور گھر چلے جائیں۔"

فلاڈیلفی راہداری کا مسئلہ غزہ میں لڑائی روکنے اور حماس کے زیرِ حراست اسرائیلی یرغمالیوں کی واپسی کے لیے معاہدہ طے کرنے کی کوششوں میں ایک اہم اختلافی نکتہ رہا ہے۔ غزہ میں بدستور 101 یرغمالی موجود ہیں۔

جو مذاکرات کئی ہفتوں سے جاری ہیں لیکن ان میں کسی پیش رفت کا امکان بہت کم ہے، ان کے بارے میں نیتن یاہو کے مؤقف نے امریکہ سمیت اتحادیوں کو عاجز کر دیا ہے اور ان کے اپنے ہی وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ کے ساتھ اختلافات وسعت اختیار کر گئے ہیں۔

گانٹز نے کہا، "کہانی فلاڈیلفی کی نہیں ہے بلکہ صحیح معنوں میں یہ فوجی حکمتِ عملی کے فیصلے کرنے کی صلاحیت کا فقدان ہے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ حماس کی زیرِ زمین سرنگوں کو ایک رکاوٹ کے ساتھ روکنے کا منصوبہ موجود تھا لیکن نیتن یاہو نے اسے سیاسی طور پر فروغ نہیں دیا۔

ایک اعتدال پسند جمایت جو نئی حکومت کی سربراہی کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھی جاتی ہے، اس کے سربراہ گینٹز جب بات کر رہے تھے تو ہزاروں اسرائیلیوں کا تل ابیب میں مسلسل تیسرے دن احتجاج جاری تھا جو یرغمالیوں کو واپس لانے کے معاہدے کے حامی ییں۔

سابق وزیرِ دفاع گینٹز نے کہا، "ہمیں ایک معاہدہ طے کرنے کی ضرورت ہے - ایک یا ایک سے زیادہ مراحل میں۔" انہوں نے یہ بھی کہا، اسرائیل کو روزانہ راکٹ حملے روکنے اور شمال میں بے گھر شہریوں کی گھر واپسی کو ممکن بنانے کے لیے جنوبی لبنان میں حزب اللہ پر حملہ کرنے کی ضرورت ہے۔

گینٹز کو جواب دیتے ہوئے نیتن یاہو نے ایک بیان میں کہا، جب سے گینٹز اور ان کی پارٹی نے حکومت چھوڑی ہے، اسرائیل نے حماس اور حزب اللہ کے اہم رہنماؤں کو ختم کر دیا اور فلاڈیلفی راہداری کے اس اہم راستے پر قبضہ کر لیا ہے جس کے ذریعے "حماس خود کو مسلح کرتی ہے۔"

انہوں نے کہا، جو بھی اسرائیل کی فتح اور یرغمالیوں کی واپسی میں کردار ادا نہ کرے، وہ مداخلت سے بھی باز رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں