"برائی کا محور ایران ہے" کنگ حسین کراسنگ واقعہ پر نیتن یاہو کا تبصرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مغربی کنارے اور اردن کے درمیانی سرحد پر کنگ حسین کراسنگ (اللنبی برج) پر حملے میں 3 اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس واقعے پر تبصرہ کیا ہے۔ انہوں نے اتوار کو اپنے بیانات میں کہا کہ یہ یہ ایک مشکل دن ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل ایک مہلک نظریے سے گھرا ہوا ہے جس کی قیادت برائی کے ایرانی محور کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دشمنوں کا اصل مقصد ہمارے درمیان تفرقہ ڈالنا ہے۔

دوسری طرف انتہا پسند اسرائیلی وزیر قومی سلامتی بن گویر نے کہا جنگ صرف غزہ یا حزب اللہ کے خلاف نہیں بلکہ مغربی کنارے میں بھی ہے۔ یہ تبصرے اس وقت سامنے آئے جب اردن سے آنے والے ایک ٹرک ڈرائیور نے اس سرحدی کراسنگ پر اسرائیلی فورسز پر فائرنگ کردی تھی۔ یاد رہے 28 اگست سے شروع ہونے والے اسرائیلی چھاپوں اور گرفتاریوں کے نتیجے میں مغربی کنارے میں کشیدگی بہت بڑھ گئی ہے۔

اسرائیلی فوج نے انکشاف کیا کہ ہلاک ہونے والے اردنی ٹرک ڈرائیور نے چوکی پر موجود اہلکاروں پر فائرنگ کی۔ ’’العربیہ‘‘ کے نمائندے نے وضاحت کی ہے کہ اسرائیلی فوج نے کراسنگ کو مکمل طور پر بند کر دیا ہے۔ اس مقام پر کھڑے تمام ٹرکوں کی چھان بین شروع کر دی گئی ہے۔ اسرائیلی حکام نے اللنی برج پر حملے کے بعد اردن کے ساتھ تمام لینڈ کراسنگ کو بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔

بدھ 28 اگست کو اسرائیل نے مغربی کنارے میں 2002 کے بعد سے اپنی سب سے بڑی فوجی کارروائیوں میں سے ایک کا آغاز کیا تھا۔ اسرائیل نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے حمایت یافتہ مسلح گروپ شہری اہداف پر حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن کے مطابق اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے میں 23 بٹالینز تعینات کردی ہیں۔ یہ غزہ میں تعینات افواج کی تعداد سے دو گنا تعداد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں