نیا اسرائیلی سروے: نیتن یاہو کی پارٹی کی پیش قدمی
سات اکتوبر کے حملے پر عوامی غم و غصے کا شکار ہونے والے یاہو کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے
جمعہ کو رائے عامہ کے ایک جائزے سے پتا چلتا ہے کہ اگر ابھی انتخابات کروائے جائیں تو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کی دائیں بازو کی لیکود پارٹی پارلیمنٹ میں سب سے بڑی واحد پارٹی ہو گی۔ یہ نتائج گذشتہ سال سات اکتوبر کے حملوں کے بعد پارٹی کی مقبولیت کی بتدریج بحالی کی نشاندہی کرتے ہیں۔
بائیں بازو کے روزنامہ معاریو میں شائع شدہ اس سروے میں لیکود نے 32 میں سے 24 نشستیں جیتی ہوئی ہیں جو سات اکتوبر کے بعد سے معاریو کے جائرے میں اس کا سب سے زیادہ اسکور ہے۔ اس جائزے میں اعتدال پسند سابقہ جنرل بینی گینٹز کے زیرِ قیادت نیشنل یونٹی پارٹی کو 21 نشستیں ملیں۔
پول کے مطابق نیتن یاہو کا دائیں بازو کا اتحاد قوم پرست-مذہبی اور انتہائی آرتھوڈوکس جماعتوں کے ساتھ اب ہونے والے کسی بھی انتخابات میں ہار جائے گا جس میں 120 نشستوں والی پارلیمنٹ میں مرکزی حزبِ اختلاف کی 58 نشستوں کے برعکس لیکود پارٹی کی 53 نشستیں ہوں گی۔
لیکن لیکود کی پیش قدمی ظاہر کرتی ہے کہ نیتن یاہو گذشتہ سال کی نسبت کس حد تک آگے بڑھ چکے ہیں جب سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سکیورٹی کی ناکامیوں پر عوامی غم و غصے کے باعث ان کی مقبولیت کم ہو گئی تھی۔
قبل ازیں غزہ میں حماس کے خلاف جنگ میں رائے عامہ کے جائزوں سے باقاعدگی سے پتا چلتا تھا کہ لیکود کو پارلیمنٹ میں 16-18 سے زیادہ نشستیں حاصل نہیں ہوں گی۔
سروے میں نیتن یاہو کی بطور وزیرِ اعظم ذاتی حیثیت بھی بحال ہوتے ہوئے دکھائی گئی ہے۔ جواب دہندگان نے سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ جو اب سیاست سے باہر ہو چکے ہیں، کے علاوہ کسی بھی متبادل ممکنہ امیدوار کی بجائے نیتن یاہو کی حمایت کی۔
نیتن یاہو اور متعدد وزراء کے درمیان اتحادی کشیدگی اور غزہ کے یرغمالیوں کو واپس لانے کے لیے معاہدے کا مطالبہ کرنے والے اسرائیلیوں کے باقاعدہ مظاہروں کے باوجود حکومت تقریباً دو سال سے یکجا ہے۔ الیکشن 2026 تک نہیں ہوں گے۔
نیتن یاہو کی اپنی ہی پارٹی سے تعلق رکھنے والے وزیرِ دفاع یوآو گیلنٹ اور دو سخت گیر افراد - قومی سلامتی کے وزیر اتمار بین گویر اور وزیرِ خزانہ بیزالیل سموٹریچ - کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے۔
لیکود کی مقبولیت میں تو مسلسل اضافہ ہوا ہے لیکن دو قوم پرست مذہبی جماعتوں - بین گویر کے زیرِ قیادت جیوئش پاور اور سموٹریچ کی ریلیجیئس زوئنزم کو حمایت حاصل نہیں رہی جو دونوں جماعتوں کے حکومت نہ چھوڑنے کی وجہ ہے۔