گذشتہ روز لبنان میں ’پیجر‘ ڈیوائسزمیں ہونے والے پُراسرار دھماکوں کے دوران بیروت میں متعین ایرانی سفیر مجتبیٰ امینی کے زخمی ہونے کے حوالے سے متضاد طلاعات آئی ہیں۔
ایک طرف ان کی اہلیہ کا بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ امینی کو خطرناک چوٹ نہیں آئی۔
دوسری طرف ایرانی پاسداران انقلاب کے دو ارکان نے انکشاف کیا ہے کہ ایرانی سفیر کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی ہے جبکہ ان کی دوسری آنکھ شدید زخمی ہے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ وائرلیس ڈیوائس پیجر کو استعمار کرہے تھے۔
همسرم دکتر مجتبی امانی در حادثه انفجار پیجر در بیروت کمی زخمی شدن اما الحمدلله حالشان خوب است و به خیر گذشته است...
— نرگس قدیریان narges ghadirian (@Nargesghadirian) September 17, 2024
انہوں نے وضاحت کی کہ امینی کی چوٹ اس سے زیادہ سنگین تھی جس کا ایران نے ابتدائی طور پر اعلان کیا تھا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق امینی کو علاج کے لیے تہران منتقل کیا جائے گا۔
شدید چوٹ
دوسری طرف پاسداران انقلاب سے وابستہ المشرق ویب سائٹ کے چیف ایڈیٹر حسین سلیمانی نے X پلیٹ فارم پر ایک ٹویٹ میں تصدیق کی کہ سفیر کی چوٹ سنگین ہے۔
متاسفانه آسیبهای وارد شده به سفیر ایران در ناحیه چشم و بسیار شدید بوده است. https://t.co/LBVrdLGSsa
— H.Soleimani 🇮🇷 (@HS_Soleimani) September 17, 2024
انہوں نے لکھا کہ "بدقسمتی سے ایرانی سفیر کو لگنے والی چوٹیں بہت سنگین ہیں اور ان کی آنکھیں متاثر ہوئی ہیں"۔
امینی کی ایک ویڈیو کل وائرل ہوئی جب اسے بیروت کی ایک سڑک پر ہسپتال لے جایا جا رہا تھا، اس کی آنکھیں پٹیوں سے ڈھکی ہوئی تھیں جب کہ ان کی سفید قمیض پر خون پھیلا ہوا تھا۔
لحظة وصول السفير الإيراني مجتبى أماني مصابًا إلى المستشفى..
— AlJeebal (@AlJeebalNews) September 17, 2024
وفي وقت سابق، أكّدت وكالة مهر الإيرانية، أن السفير الإيراني في لبنان مجتبى أماني أصيب بجروح من جرّاءِ انفجار أجهزة الاتصال في لبنان. pic.twitter.com/zQrrZGKUXV
سفارت خانے کا موقف
دریں اثنا سفیر کی اہلیہ نرگس غدیریان ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں اعلان کیا کہ ان کے شوہر کو معمولی چوٹیں آئی ہیں،وہ ٹھیک ہیں اور خطرے سے باہر ہیں‘‘۔
ایرانی سفارت خانے نے کل بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ سفیر کے علاج کا عمل ٹھیک چل رہا ہے۔ سفارت خانے نے کہا کہ سفیر مجبتیٰ امینی کا علاج جاری ہے تاہم ان کی صحت کی حوالے سے میڈیا میں پھیلی افواہیں بے بنیاد ہیں۔
سفارت جمهوری اسلامی ایران در لبنان به اطلاع هموطنان عزیز و اصحاب رسانه میرساند که روند درمان آقای امانی، سفیر محترم، بهخوبی پیش میرود و شایعات منتشرشده در مورد وضعیت جسمی و شرایط بینایی آقای امانی، عاری از صحت است.
— السفارة الإيرانية- لبنان (@IranEmbassyLB) September 18, 2024
امینی کے دو محافظ بھی زخمی ہوئے، کیونکہ ان کے پاس ’پیجر‘ ڈیوائسز تھیں۔
خیال رہے کہ کل بدھ کو لبنان میں ہزاروں ’پیجر‘ڈیوائسز اس وقت اچانک اور پراسرار دھماکوں سے پھٹ پڑیں جب ان کے صارفین استعمال کررہے تھے۔
وزارت صحت کے مطابق ڈیوائسزمیں دھماکوں کے نتیجے میں نو افراد ہلاک اور 2800 زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک لڑکی بھی شامل ہے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے اس واقعے کو اسرائیل کی کارستانی قرار دیتے ہوئے اس کا سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
جبکہ انٹیلی جنس ذرائع اور امریکی اور اسرائیلی حکام نے گذشتہ گھنٹوں کے دوران انکشاف کیا کہ تل ابیب نے ان بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کی تھی جس میں حزب اللہ کی طرف سے گذشتہ دنوں کے دوران لائی گئی پیجرز کی ایک نئی کھیپ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔