لبنان : پیجر بم دھماکوں سے زیادہ تر لوگوں کی آنکھیں ضائع کیسے ہوئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنان میں طبی عملے نے انکشاف کیا ہے کہ حزب اللہ کو نشانہ بنانے والے پیجر دھماکے جن میں سینکڑوں ارکان زخمی اور ہلاک ہوئے ہیں بہت سے لوگوں کے لیے زندگی بھر کی معذوری بھی لائے ہیں۔

طبی ذرائع کے مطابق دھماکوں کے بعد بہت سے لوگ بینائی سے محروم ہوگئے اور متعدد واقعات میں کی سرجری کے بعد آنکھیں نکالنا پڑیں۔

زیادہ تر زخم چہرے، پیٹ، ہاتھ اور ٹانگوں پر ہیں۔ سب سے زیادہ شدید چوٹیں آنکھوں پر لگی تھیں۔

بعض افراد کی دونوں آنکھیں ضائع ہو چکی ہیں۔

بعض افراد ہاتھ کھو چکے ہیں۔ بعض کے ٹانگوں، پیٹ یا چہرے پر گھاؤ ہیں یا اعضاء ضائع ہوئے ہیں۔

اس بارے میں العربیہ اور الحدث نے مصر میں سائبر سیکیورٹی اور سائبر کرائم پر تحقیق کرنے والے ڈاکٹر محمد محسن رمضان سے بات کی ۔ان کا کہنا ہے کہ پیجر ڈیوائسز پڑھنے کے لیے پیغامات وصول کرتی ہیں، اور اس لیے ڈیوائس کے استعمال کنندگان کو سب سے پہلے الرٹ ملتا کہ اتنی تعداد میں پیغامات موصول ہوئے، اور اس کے پیش نظر اسکرین کو دیکھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اتنی تعداد میں آنکھوں کا زخمی ہونا ظاہر کرتا ہے کہ ڈیوائسز کو بڑی تعداد میں پیغامات موصول ہوئے، جس نے صارفین کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی اور انہیں دیکھنے کے لیے آمادہ کیا۔

لبنان میں ایرانی حمایت یافتہ گروہ حزب اللہ کے خلاف پہلے پیجر اور پھر واکی ٹاکی حملوں میں اب تک 32 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق بدھ کے روز واکی ٹاکی پھٹنے کے تازہ حملوں میں 20 افراد ہلاک جبکہ 450 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل منگل کے روز ہونے والے پیجر دھماکوں میں حزب اللہ کے زیرِ استعمال کئی پیجرز پھٹنے سے دو بچوں سمیت 12 افراد ہلاک اور 2800 زخمی ہوئے، جن میں ایران کے سفیر بھی شامل ہیں۔ حزب اللہ ان حملوں کا الزام اسرائیل پر عائد کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں