غزہ تنازعہ علاقائی کشیدگی میں اضافے کے ساتھ ووٹرز پر اثراندااز ہوتا ہے:حسین مجالی
فلسطین کے ساتھ ملک کے گہرے ثقافتی اور برادرانہ تعلقات رائے عامہ کی تشکیل کرتے ہیں: سابق وزیرِ داخلہ اردن
اردن کے سابق وزیرِ داخلہ حسین مجالی نے جمعہ کو العربیہ نیوز کو بتایا، غزہ میں جاری جنگ اور فلسطینیوں کے ساتھ سلوک اردن کے ووٹرز کے لیے اہم مسائل بن چکے ہیں کیونکہ فلسطین کے ساتھ ملک کے گہرے ثقافتی اور برادرانہ تعلقات رائے عامہ کی تشکیل کرتے ہیں۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تنازعہ رائے دہندگان کے اذہان میں سب سے آگے کیوں ہے، مجالی نے جی این ٹی کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران وضاحت کی، "اردن اور فلسطین کے درمیان ایک خاص رشتہ ہے۔ جب غزہ یا مغربی کنارے میں کچھ ہو تو یہ اردن میں ہمیں اپنے گھر میں محسوس ہوتا ہے۔"
غزہ تنازعے نے اردن میں سیاسی منظر نامے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا ہے کیونکہ اخوان المسلمون کے سیاسی بازو اسلامک ایکشن فرنٹ (آئی اے ایف) نے ستمبر کے اوائل میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں خاطر خواہ کامیابیاں حاصل کیں۔
مجالی نے کہا، "غزہ اور مغربی کنارے کی شورش اور وہاں ہونے والی تمام کارروائیوں نے انتخابات کے نتائج کو متأثر کیا ہے جو میں سمجھتا ہوں کہ اسلامک ایکشن فرنٹ کے حق میں ہوا۔"
انہوں نے مزید کہا، وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ آئی اے ایف کی جیت اسرائیل کے ساتھ اردن کے امن معاہدے میں کسی بڑی تبدیلی کا باعث بنے گی۔ "جب اردن نے ریاست اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کی توثیق کی تو اخوان المسلمون پارلیمنٹ میں تھی۔"
تاہم سابق وزیر نے تنازعہ کے بارے میں اسرائیل کے نکتۂ نظر کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا کیونکہ اس نے حالیہ حملے میں لبنان کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے اسے "حساب کتاب کے بغیر مول لیا گیا ایک خطرہ" قرار دیا جو بڑھ کر ایک بڑی علاقائی جنگ میں بدل سکتا ہے۔
انہوں نے حزب اللہ کے ساتھ کشیدگی میں اضافے کی طرف جانے پر اسرائیل کی قیادت پر تنقید کی اور اسے ایک "بڑی غلطی" قرار دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات شرقِ اوسط کو مزید عدم استحکام کا شکار کر سکتے ہیں، "مجھے نہیں لگتا کہ ان کے پاس افرادی قوت، حوصلہ اور ایک مکمل جنگ میں داخل ہونے کا عزم ہے۔"
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کے حق میں حالیہ ووٹ کا حوالہ دیتے ہوئے مجالی نے عالمی برادری کے مؤقف کی طرف بھی اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا، ایسا لگتا ہے کہ اسرائیل امن کے عالمی مطالبات بشمول امریکہ کی طرف سے بھی سننے کے لیے تیار نہیں ہے۔ "اسرائیل پر بہت دباؤ ہے اور اسرائیل نہیں سن رہا۔ وہ امریکہ کی بالکل نہیں سن رہا۔"
مجالی نے مغرب بالخصوص امریکہ پر زور دیا کہ وہ ایک ایماندار ایجنٹ کے طور پر اسرائیل-فلسطین تنازعہ میں زیادہ متوازن کردار ادا کرے۔ "امریکہ ہمیشہ خطے میں انسانیت اور امن و استحکام کا علمبردار رہا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر وہ آزاد دنیا کا رہنما بننا چاہتا ہے جس کی وہ تبلیغ کرتا ہے تو اسے اسرائیل-فلسطین تنازعے کے خاتمے سے ابتدا کرنی چاہیے۔"
مجالی نے خطے میں اردن کی تزویراتی اہمیت پر روشنی ڈالی بالخصوص جبکہ اسے اپنی سرحدوں کے ساتھ مختلف پراکسی گروپس کے خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم ایک مضبوط مملکت ہیں جس کی بنیاد قوانین اور انتہائی مضبوط سماجی ہم آہنگی پر ہے اور ہم کسی کو بھی اردن کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی اجازت نہیں دیں گے۔"
انہوں نے مزید کہا، اگرچہ اردن کسی بھی منظر نامے کے لیے تیار ہے لیکن وہ مستقبل قریب میں کسی وسیع پیمانے پر تنازعے میں مملکت کے شامل ہونے کی پیش گوئی نہیں کرتے۔ البتہ انہوں نے ملک کو درپیش کئی چیلنجز بالخصوص غزہ، مغربی کنارے اور لبنان کی شمالی سرحدوں کے تنازعات کے اثرات کو تسلیم کیا۔ "ایسا لگتا ہے کہ آپ ایک تنی ہوئی رسی پر چل رہے ہیں۔" انہوں نے تبصرہ کیا۔
انہوں نے مزید کہا، "میں واقعتاً دعا کرتا ہوں کہ فریقین برابری کا مظاہرہ کریں اور علاقے کو زیادہ کشیدگی کی طرف نہ دھکیلیں جو خطے میں شورش کا باعث بن سکتا ہو۔"
-
سعودی عرب کی یمن، لبنان، سوڈان، چاڈ اور اردن کے شہریوں کے لیے امداد کی فراہمی
شاہ سلمان ریلیف سینٹر کی طرف سے اردن، چاڈ، سوڈان، یمن اور لبنان میں شہریوں کے لیے ...
مشرق وسطی -
غزہ کی صحافی شروق العيلة کے لیے بین الاقوامی صحافتی تنظیم کا ایوارڈ
بے گھر ہونے کے باوجود العائلہ غزہ میں جنگ کی کوریج جاری رکھے ہوئے ہیں
مشرق وسطی -
غزہ: بے گھرافراد پرمشتمل سکول پراسرائیلی بمباری،لبنان سرحد پرکشیدگی سےمذاکرات معطل
جنگ سے تباہ حال غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری جاری ہے۔ اطلاعات کے مطابق آج ہفتے کو ...
مشرق وسطی