جدید سعودی ریاست کے بانی شاہ عبدالعزیز بن عبدالرحمٰن کے سنہ 1902 میں ریاض میں داخل ہونے کے بعد سے 1932 میں ملک کے متحد ہونے تک کی تاریخ کے متعدد واقعات کتابوں میں محفوظ ہیں۔ اسی طرح تاریخ میں ان کی ریاض پر پیش قدمی اور کے بارے میں بھی بہت تفصیل سے ذکر ملتا ہے۔ ریاض ابتدائی سعودی مملکت کا دارالحکومت تھا۔ آل سعود جس سے شاہ عبدالعزیز کا تعلق تھا ، نے اس پیش قدمی کے ذریعے اپنی کھوئی ہوئی امارت حاصل کی ، جو آگے چل کے سعودی عرب بنی۔
شاہ کی یادداشتوں میں سے ایک اہم رات کا تذکرہ لبنانی مؤرخ اور مصنف امین الریحانی نے اپنی کتاب "حدیث تاریخ نجد" اور اس کے ضمیمہ میں کیا ہے جسے انہوں نے "فاتح کی رات" سے موسوم کیا ہے۔
اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مصنف لکھتے ہیں کہ ریاست کے سپاہیوں کے مدینہ اور بغداد جلاوطن ہونے کے بعد، مطیر کے دو سرداروں، فیصل الدویش اور نائف بن ہذائل نے ابن سعود کے خلاف بغاوت کر دی، اور انہوں نے بریدہ اور حائل کے شہزادوں کو بھی ساتھ ملا لیا۔
لیکن بریدہ کے لوگ وفادار رہے۔
اس شہر میں شاہ عبدالعزیز کی ایک بیوی تھی جن کے پاس وہ وقتاً فوقتاً جاتے تھے۔
جب بغاوت کی خبر شاہ تک پہنچی تو وہ اس کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے القصیم کی جانب روانہ ہوئے۔
جب وہ بریدہ کے قریب پہنچے تو غدیر کے قریب ایک گاؤں "شقہ" میں پڑاؤ ڈالا اور وہاں سے اپنے ایک خادم کو اپنے خاص آدمی شلہوب کے پاس بھیجا اور اپنی آمد کی اطلاع دی۔ یہ وہی الشلہوب ہیں، جو اس کے بعد سلطنت نجد میں مالیات اور رسد کے امیر بنے۔
آگے پیش قدمی سے قبل ، شاہ نے اس روز اپنا بہترین لباس زیب تن کیا تھا۔
وہ چھ آدمیوں کے ساتھ رات کے وقت باہر نکلے جب وہ بریدہ سے صرف آدھے گھنٹے کی مسافت پر تھے تو ان کی ملاقات قاصد سے ہوئی جو پیغام لایا کہ ابوالخیل (بریدہ کے امیر) نے محل کو بند کر دیا ہے اور جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔
اسی وقت آسمان سے تیز بارش برسنے لگی، اور سفر دشوار ہوگیا۔ وہ نہ بریدہ میں داخل ہو سکتے اور نہ ہی اپنے پڑاؤ کے مقام پر واپس جا سکتے تھے، جو اس سے تین گھنٹے کے فاصلے پر تھا۔
قریب ہی انہیں کتے کے بھونکنے کی آواز سنائی دی۔ ساتھ ہی کچھ انسانی آوازیں بھی تھیں۔
وہ آوازوں کی سمت بڑھے
وہ ایک چھوٹا سا خیمہ تھا جو چھ ہاتھ لمبا اور اس سے نصف چوڑا تھا ۔ شاہ نے کہا: اے گھر والو، ہم تمہارے مہمان ہیں۔ اُنہوں نے اُنہیں جانے بغیر خوش دلی سے اندر آنے کو کہا " خوش آمدید، لیکن گھر تنگ تاریک ہے۔"
انہوں نے صرف ایک کونہ قبول کیا، اور نوکر خیمے کے باہر ہی رہے۔
اندر دس افراد تھے، بوڑھے اور جوان، جن میں ایک بیمار بوڑھی عورت اور ایک پاگل آدمی بھی شامل تھا۔کچھ بکریاں بھی اسی خیمے میں تھیں۔
شاہ دروازے کے پاس ایک کاٹھی پر بیٹھ گئے۔ اپنے دونوں اطراف میں ہاتھ باندھے وہ ٹھنڈ سے کپکپا رہے تھے۔ اس دوران بکریاں ان کے کندھوں پر اچھلتی رہیں، خیمے کی چھت سے بارش برس رہی تھی، بیمار عورت کونے میں کراہ رہی تھی، دیوانہ چیخ رہا تھا، بچے رو رہے تھے، اور بڑے، زندگی کی تلخیوں سے آزاد، بات چیت کر رہے تھے۔
وہ اس خیمے میں بیٹھے، لوگوں کی حالت پر غورو فکر کرتے رہے۔ انہوں نے سوچا کہ کاش ابو الخیل (امیر) اس طوفانی رات یا اس ٹپکتی چھت کے نیچے بیمار بوڑھی عورت اور پاگل بوڑھے کے درمیان ہوتا۔
یہ فاتح کی رات تھی! جب صبح ہوئی تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور لباس تبدیل کرنےکے لیے شقہ میں پڑاؤ کی جگہ واپس پہنچے۔
جب وہ اس گاؤں پہنچے تو دیکھا کہ مکانات کی دیواریں طوفان اور بارش سے گر رہی ہیں۔ وہ امیر کے گھر گئے، جس کے پاس ابھی تک ایک کمرہ تھا جس کی چھت تھی اور اس میں آگ جل رہی تھی۔
شاہ نے اپنے کپڑے خشک کر کے دوبارہ بریدہ کا رخ کیا۔
محل پہنچنے پر انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا اور بتایا کہ میں ابن سعود ہوں۔ اندر موجود افراد کے پاس دروازہ کھولنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
جب ابو الخیل سامنے آیا تو اسے خوف سے کانپتے ہوئے دیکھا۔ اس نے کہا کہ"لوگوں نے مجھ پر بہتان لگایا ہے اور وہ جھوٹ بول رہے ہیں۔
شاہ تفصیلات جاننے کے لیے ایک دن تک بریدہ میں رہے اور مطیر کے سرداروں کی غداری کا سراغ لگا لین، تاہم ، انہوں نے بعد میں انہیں معاف کردیا۔
اس رات کے تحربات اور مشاہدات کئی برسوں تک شاہ کے ذہن پر نقش رہے۔ وہ اسے اپنے بچوں اور لوگوں کے سامنے بیان کیا کرتے تھے اور کہتے کہ یہ ملک آسانی سے نہیں بنایا گیا تھا، بلکہ یہ برسوں کی تھکاوٹ، لگن اور قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے۔