اسرائیل اور لبنان کے درمیان ممکنہ کشیدگی روکنے کے لیے امریکہ نے پچھلا پورا سال کوششیں کی تھیں مگ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگی صورت حال بالآخر ایک خوفناک شکل میں مرحلہ جاری ہے۔ البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ ایک خاص وقت تک یہ جنگی صورت حال رکی رہی۔
متعلقہ ذرائع کا کہنا ہے امریکہ ایک نئی سفارتی کوشش شروع کرنے کی تیاری میں ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے ' رائٹرز' کے مطابق کئی مختلف ذرائع نے امکانی سفارتی کوششوں کے شروع ہونے کی تصدیق کی ہے۔
جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران دو لبنانی ذرائع کے علاوہ دو یورپی ذرائع، ایرانی حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ سے جڑے ایک ذریعے نے بھی اس بارےمیں تصدیق کی ہے۔ البتہ امریکی وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی سے متعلق ذرائع نے اس بارے میں خاموشی کو ہی بہتر جانا ہے۔
علاوہ ازیں تین اسرائیلی ذرائع نے بھی ' رائٹرز' کو بتایا ہے کہ امریکی اور فرانسیسی اس بارے میں ورکنگ کر رہے ہیں۔ تاکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی ہو سکے لیکن ابھی کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بھی پہلا موقع ہو گا کہ امریکہ دو محاذوں پر جنگ بندی کے لیے کوشش میں ہو گا۔
ان ذرائع کے مطابق ممکنہ طور پر کوئی معاہدہ جو ہو گا اور یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے پیش رفت ہو جائے گی۔ واضح رہے اسرائیل کے خلاف سرحدی جھڑپوں کا آغاز آٹھ اکتوبر سے حماس کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے کیا تھا۔ اسرائیل کے سب سے بڑے اتحادی کی رائے کے مطابق غزہ سے باہر جنگ کا نکلنا اسرائیل کے حق میں نہیں تھا ، اس لیے بھر پور سفارتکاری کے ذریعے کوششیں شروع ہو گئیں۔ جو تقریبا سال بھر کے بعد اب اسرائیل کے بھر پور حملوں اور بد ترین بمباری کی شکل میں خطرناک جنگ کے ساتھ سامنے ہیں۔
اس لیے امریکہ نے پھر سفارتی میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا ہے۔ لبنان کے سرکاری ذرائع جو حزب اللہ سے بھی رابطے میں ہیں یہ بتاتے ہیں کہ حزب اللہ ایسی کسی ڈیل کے لیے تیار ہے جو حماس اور حزب اللہ دونوں کے ساتھ کسی ' سیٹلمنٹ ' کو ممکن بنا سکے۔
لبنان کے نگران وزیر اعظم نجیب میقاتی نے بھی نئی صورت حال میں امریکی دورے پر جانے کا عندیہ دیا ہے۔ اس سے پہلے ان کا امریکہ جانے کا کوئی ایسا ارادہ نہ تھا۔