ایران کی شرکت کے ساتھ حزب اللہ کی صفوں میں کچھ لوگوں کی جانب سے اسرائیل کے پیجر اور واکی ٹاکی حملوں میں شرکت کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں کہ اسی دوران سپاہ پاسداران انقلاب کے سربراہ اور صدر کے مشیر سامنے آگئے ہیں۔ 17 اور 18 ستمبر کو پیجر اور واکی ٹاکی دھماکوں سے لبنان میں درجنوں افراد قتل اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔
جمعہ کو نیوز ایجنسی ’’رُکنا‘‘ نے رپورٹ کیا کہ سپاہ پاسداران انقلاب کے رہنما حسین طائب نے کہا ہے کہ حزب اللہ کو حاصل کردہ پیجر آلات کی صرف ایک تہائی کھیپ دھماکہ خیز تھی۔ اگر اسرائیل اس وقت تک انتظار کرتا جب تک کہ لبنان کے تیسرے ملک سے خریدے گئے آلات آلودہ نہ ہوجاتے تو وہ بہت زیادہ نقصان پہنچا سکتا تھا۔
طائب نے مزید کہا لیکن اسرائیل بہت مشکل صورتحال میں ہے جس نے اس خصوصی اقدام کو جلد اور عجلت میں نافذ کرنے کے لیے کہا تھا۔
4 گواہوں سے پوچھ گچھ
یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب تائیوان میں استغاثہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ اس نے اب تک تائیوان کی "گولڈ اپولو" کمپنی کے حوالے سے اپنی تحقیقات میں 4 گواہوں سے پوچھ گچھ کی ہے۔ اس کمپنی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ لبنان کے مختلف علاقوں میں 10 دن قبل پھٹنے والے پیجر اس نے تیار کیے تھے۔
رائٹرز کے مطابق تائی پے میں شیلن ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر کے ترجمان، جو اس کیس کی تحقیقات کی قیادت کر رہے ہیں، نے کہا کہ گزشتہ ہفتے دو افراد کے علاوہ ایک موجودہ ملازم اور گولڈ اپولو کے ایک سابق ملازم سے بطور گواہ پوچھ گچھ کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس معاملے کی فوری تحقیقات کر رہے ہیں اور اسے جلد از جلد حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے پوچھ گچھ کرنے والے دو افراد کے نام بتانے سے انکار کر دیا۔
سکیورٹی ذرائع نے اس سے قبل اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ریڈیو دھماکوں کا ذمہ دار اسرائیل تھا جس نے حزب اللہ کے ساتھ بڑھتے ہوئے تنازع کو تیز کیا تھا۔ تل ابیب نے اس میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔
تائیوان میں مقیم گولڈ اپولو نے بھی گزشتہ ہفتے اس بات کی تردید کی تھی کہ اس نے حملے میں استعمال ہونے والے آلات تیار کیے ہیں۔ کمپنی نے کہا ہنگری میں بی اے سی کے پاس اپنا ٹریڈ مارک استعمال کرنے کا لائسنس ہے۔ تائیوان کی حکومت نے تصدیق کی تھی کہ پیجر تائیوان میں تیار نہیں کیے گئے تھے۔
دھماکہ خیز مواد نصب کرنے کا راز
گزشتہ ہفتے استغاثہ نے گولڈ اپولو کے چیئرمین اور بانی ہسو چینگ کوانگ اور اپولو سسٹمز نامی کمپنی کی واحد ملازمہ ٹریسا وو سے پوچھ گچھ کی۔ یاد رہے باخبر ذرائع نے اس سے قبل انکشاف کیا تھا کہ اسرائیل نے تین ماہ قبل پیجر ڈیوائسز میں دھماکہ خیز مواد نصب کیا تھا جسے حزب اللہ نے ایک ثالث کے ذریعے مہینوں پہلے پہنچنے والی کھیپ میں درآمد کیا تھا اور اس میں تقریباً 5000 ڈیوائسز شامل تھیں۔ ابھی تک یہ بات اسرار کے پردے میں ہے کہ دھماکہ خیز مواد کیسے نصب کیا گیا۔
-
پانچویں دن بھی اسرائیل کی جنوبی لبنان پر بمباری، حزب اللہ کی حیفا پر راکٹ باری
مشرقی لبنان کے علاقے البقاع کے کئی علاقوں پر رات کی بمباری کے بعد لگاتار پانچویں ...
بين الاقوامى -
لبنان میں جنگ بندی کی واشنگٹن کی تجویز پر بات کر رہے: نیتن یاہو
لبنان میں جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرنے کے اپنے مؤقف کے بعد اسرائیلی وزیراعظم ...
مشرق وسطی -
لبنان کے نیا غزہ بننے کی مخالفت کرتے ہیں: فرانسیسی صدر
فرانس کے صدر عمانویل ماکروں نے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک اس بات کی مخالفت کرتا ہے ...
مشرق وسطی