لبنان کے اندر بڑے پیمانے پر نقل مکانی، پناہ گزین مراکز کا شامیوں کو رکھنے سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

رواں ہفتے پیر کے روز سے لبنان میں اسرائیل کے شدید حملوں کے تناظر میں بین الاقوامی تنظیمیں مقامی طور پر نقل مکانی کرنے والے شامی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے کام کر رہی ہیں۔ بالخصوص جب کہ جنوبی لبنان سے دار الحکومت بیروت اور دیگر علاقوں میں منتقل ہونے کے بعد ان میں سے اکثریت کو رہنے کے لیے ٹھکانا نہیں مل سکا۔

لبنان میں پناہ گزینوں کے امور کے ہائی کمیشن کے مطابق "حالیہ دنوں میں ملک کو درپیش واقعات 2006 کی جنگ کے بعد سے لبنان پر شدید ترین حملے شمار کیے جا رہے ہیں، یہ تشویش ناک بات اور خطرناک جارحیت ہے"۔

اس سلسلے میں ہائی کمیشن کی ترجمان لیزا ابو خالد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "لبنان میں شہریوں کا تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قوانین کا احترام یہ انتہائی اہمیت کے حامل امور ہیں۔ ان کے علاوہ شہریوں اور شہری انفرا اسٹرکچر کے تحفظ کی ضمانت لازمی امر ہے"۔

لیزا کے مطابق موجودہ دشمنانہ کارروائیاں معاشرے کے تمام طبقوں کے لیے چیلنجوں کو جنم دے رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ "کچھ عرصہ قبل لبنان کے تمام حصوں میں نقل مکانی کرنے والے شامی پناہ گزینوں کو محفوظ پناہ گاہوں تک پہنچنے میں دشواری اور متبادل رہائش پانے میں چیلنجوں کا سامنا ہے۔ اس لیے کہ حکومت کی جانب سے مختص کردہ اجتماعی پناہ گزین مراکز نے شامیوں کا خیر مقدم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

لبنان میں اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہوئے لوگ (آرکائیوز - رائٹرز)
لبنان میں اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں بے گھر ہوئے لوگ (آرکائیوز - رائٹرز)

اقوام متحدہ کی خاتون ذمے دار کے مطابق "ہائی کمیشن اس وقت حکام اور انسانی کام میں شریک اداروں کے ساتھ رابطہ کاری میں ہے تا کہ ملک بھر میں نقل مکانی کرنے والوں کی ضروریات پوری کی جا سکیں۔ اس سلسلے میں انسانیت پر مبنی سرگرمیوں کے شراکت دار موجود ہیں تا کہ نقل مکانی کرنے والے نئے افراد کو بنیادی امدادی سامان اور مالی معاونت پیش کر سکیں"۔

لیزا نے بتایا کہ ہائی کمیشن اس وقت وزارت صحت اور عالمی ادارہ صحت کے تعاون سے زخمیوں کے علاج کے لیے 60 طبی کٹس کی خریداری اور فراہمی پر کام کر رہا ہے۔

لیزا کے مطابق بم باری کا شکار ہونے والے پناہ گزینوں کے اہل خانہ کی ضروریات کا جائزہ لینے کے بعد انھیں امداد اور نفسیاتی و سماجی سپورٹ فراہم کی جا رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ کمیشن وزارت صحت کو مزید سپورٹ پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس سے قبل جنوبی لبنان، البقاع، شمالی علاقے، بیروت اور جبل لبنان میں ہنگامی صورت حال کے حوالے سے بنیادی امدادی سامان فراہم کیا گیا۔ ان میں بستر، کمبل، باورچی خانے کا سامان اور دیگر بنیادی امدادی سامان شامل ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی رصد گاہ نے گذشتہ روز اعلان کیا تھا کہ لبنان میں حالیہ دنوں میں اسرائیلی فضائی بم باری میں جاں بحق ہونے والے شامی پناہ گزینوں کی تعداد 107 تک پہنچ گئی ہے۔ مرنے والوں میں 24 عورتیں اور 33 بچے شامل ہیں۔

ادھر لبنانی حکام نے جمعرات کے روز بتایا کہ 8 اکتوبر سے حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد سے اب تک لبنان میں 1540 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جب کہ 70 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں