ایرانی رکن پارلیمنٹ: خامنہ ای کی سختی سے اسرائیل پر کاری ضرب لگانے کی ہدایت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان غیر معمولی کشیدگی اور اسرائیلی فوج کی طرف سے تنظیم کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کے قتل کے لیے کی گئی کارروائی کے اعلان کے بعد ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے رکن نے انکشاف کیا کہ سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے "واضح طور پر کہا ہے کہ اسرائیل کو مہلک دھچکا اور کاری ضرب لگائی جائے‘۔

ایرانی پارلیمنٹ میں قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن اسماعیل کوثری نے مزید کہا کہ "اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان اور غزہ کے رہائشی علاقوں پر حملے مزاحمتی قوتوں کے مقابلے میں اس حکومت کی کمزوری کو ظاہر کرتے ہیں"۔

ایرانی سٹوڈنٹ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ "ان جرائم کی اصل وجہ امریکہ ہے، جو اسرائیل کو بم اور ہتھیار فراہم کرتا ہے"۔

انہوں نے وضاحت کی "عوام اور مزاحمتی محاذ ہم سے اس سلسلے میں اقدامات کرنے کی توقع رکھتے ہیں"۔ یہ اقدامات سوچ سمجھ کر کیے جائیں اور ان جرائم کو روکنے کے لیے مناسب وقت پر کیے جائیں"۔

نصراللہ کا قتل

قابل ذکر ہے کہ اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ جمعہ کو بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں پارٹی کی قیادت کے ہیڈکوارٹر پر کیے گئے حملے میں "ہلاک" ہوگئے ہیں، جب کہ حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ حزب اللہ نصراللہ جمعے کی شام سے لاپتا ہیں۔

حزب اللہ نے اپنے سیکرٹری جنرل کے انجام کے بارے میں کوئی باضابطہ اعلان جاری نہیں کیا۔تاہم گذشتہ شام بیروت کے جنوبی علاقے میں اسرائیل نے حزب اللہ کے خلاف اب تک کا طاقت اور خوفناک حملہ کیا تھا جس میں حزب اللہ کے ہیڈ کواٹر کو نشانہ بنایا گیا۔

تاہم حزب اللہ کے قریبی ذرائع نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے پرہفتے کے روز بتایا کہ جمعہ سے نصر اللہ سے رابطہ منقطع لیکن اس کی موت کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

فوج کے ترجمان نداو شوشانی نے ایکس پلیٹ فارم پرایک پوسٹ میں کہا کہ "حسن نصراللہ مارا گیا ہے"۔ فوج کے ایک اور ترجمان ڈیوڈ ابراہم نے اے ایف پی کو حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل کو ختم کرنے کی تصدیق کی۔

اسرائیل کی جانب سے نصراللہ کے قتل کے اعلان کے بعد اسرائیلی چیف آف اسٹاف ہرزی ہیلیوی نے اسرائیل کو دھمکیاں دینے والے ہر اس شخص تک "پہنچنے" کا عہد کیا اور کہا کہ "ہم نے اپنے اختیار میں تمام وسائل ختم نہیں کیے ہیں۔ پیغام آسان ہے: جو بھی اسرائیل کے شہریوں کو دھمکی دیتا ہے ہم جانتے ہیں کہ اس تک کیسے پہنچنا ہے"؟

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں