جمعے کی شام دارالحکومت بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے الضاحیہ کو پرتشدد دھماکوں کی ایک سیریز نے ہلا کر رکھ دیا۔ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ وہ حزب اللہ کی مرکزی کمان کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے مزید کہا کہ اس حملے کی ہدایت کی گئی تھی اور حملہ میں حزب اللہ کے ہیڈ کوارٹرز کو مکمل طور پر تباہ کردیا گیا۔
انہوں نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے ایک بیان میں یہ بھی کہا کہ سنٹرل کمانڈ کا ہیڈ کوارٹرز شہری علاقوں میں گہرائی کے اندر تھا۔ یہ بیان حملے کے چند منٹ بعد سامنے آیا۔ دریں اثنا اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے علاقے ’’الضاحیہ‘‘ میں ہونے والے حملے کے موقع پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں مداخلت کی۔
تاہم ایک امریکی رپورٹ میں اسرائیلی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے انکشاف کیا گیا ہے کہ حملے کا مقصد حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل حسن نصر اللہ کو قتل کرنے کی کوشش تھی۔ حسن نصر اللہ زیر زمین چودہویں منزل پر چھپے ہوئے تھے۔ رپورٹ میں اس خبر کے بارے میں کسی اضافی معلومات کا ذکر نہیں کیا گیا سوائے اس کے کہ اس میں کہا گیا کہ حملے کے وقت حزب اللہ کے اعلیٰ عہدیدار ہیڈ کوارٹرز میں موجود تھے۔ حزب اللہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کے حوالے سے تاحال کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ اسرائیلی ذریعے نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے ابھی تک حسن نصر اللہ کے زخمی ہونے کی تصدیق نہیں کی ہے۔
حزب اللہ کا گڑھ
واضح رہے لبنان جنوبی الضاحیہ کے علاقے کو حزب اللہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے ۔ بیروت میں یہ ایک گنجان آباد علاقہ ہے، لیکن اس کے باوجود اس میں جماعت کے لیے کئی سہولیات اور ادارے شامل ہیں۔ پچھلے ہفتے سے اسرائیلی حملوں میں حزب اللہ کے رہنماؤں کے قتل کا مشاہدہ کیا گیا۔