سعودی وزیر خارجہ کی'بے کس'فلسطینی شہریوں کے خلاف اسرائیل کے وحشیانہ طرزِعمل' کی مذمت
انہوں نے فلسطین کو مکمل رکنیت دینے کا مطالبہ بھی کیا
سعودی وزیرِ خارجہ نے ہفتے کے روز اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کے دوران غزہ کی پٹی میں "بے کس شہریوں" کے خلاف اسرائیل کے "جرائم" اور "وحشیانہ طرزِ عمل" کی مذمت کی۔
شہزادہ فیصل بن فرحان نے اسرائیل پر "حقیقی انسانی تباہی" کا سبب بننے کا الزام لگایا جو "بدتر ہوتی جارہی ہے۔"
انہوں نے عالمی عدالتِ انصاف کی حالیہ مشاورتی رائے کو سراہا کہ مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور مشرقی یروشلم پر اسرائیل کا قبضہ بین الاقوامی اور انسانی قانون کے تحت غیر قانونی ہے۔
شہزادہ فیصل نے اقوامِ متحدہ سے فلسطین کو مکمل رکن کی حیثیت سے تسلیم کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا: "ہم 10 مئی 2024 کو جنرل اسمبلی کی قرارداد کی منظوری کا خیرمقدم کرتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ ریاست فلسطین ہماری تنظیم کی مکمل رکن بننے کے لیے تمام شرائط کو پورا کرتی ہے اور ہم ناروے، سپین، آئرلینڈ، سلووینیا اور آرمینیا کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں جنہوں نے برادر ملک فلسطین کو تسلیم کیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: "ہم دوسری ریاستوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ دو طرفہ طور پر فلسطین کی ریاست کو تسلیم کریں اور فلسطین کی ریاست کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کے لیے مل کر کام کریں۔"
شہزادہ فیصل نے کہا،"خونریزی کو روکنے، بلا روک ٹوک انسانی رسائی کو یقینی بنانے، فلسطینی عوام کے جائز مطالبات کو پورا کرنے" اور مشرقی یروشلم کے دارالحکومت کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی سعودی کوششوں کے باوجود اسرائیل کی کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، "ہم فلسطینی عوام کے خلاف ہونے والے تمام اسرائیلی جرائم کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔ اس برادر ملک کے لوگ کئی عشروں سے جو مصائب جھیل رہے ہیں، یہ عام اور بے کس شہریوں کے خلاف ہونے والے حالیہ جرائم کی کہانی کا صرف ایک باب ہے۔"
انہوں نے کہا، گذشتہ سال سے اسرائیل کے "وحشیانہ" طرز عمل سے "دسیوں ہزار فلسطینی شہریوں بلخصوص خواتین اور بچوں کی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔ ہم بمباری، قتل و غارت اور تباہی دیکھ رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقی انسانی تباہی ہے اور بدتر ہوتی جارہی ہے۔ اس جارحیت کو روکنا ضروری ہے۔"
شہزادہ فیصل نے کہا، سعودی عرب نے گذشتہ سال غزہ کے لوگوں کو پانچ بلین ڈالر فراہم کیے ہیں اور اقوامِ متحدہ کے مختلف اداروں کے ساتھ مل کر تعمیرِ نو اور انسانی امداد کے لیے مجموعی طور پر 106 بلین ڈالر جمع کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، مملکت اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان دو ریاستی حل کی بنیاد پر امن کے حصول کے لیے اقوامِ متحدہ کی وزارتی کمیٹیوں، ناروے اور یورپی یونین کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا، سعودی عرب بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کر کے "دہشت گردی کی مالی اعانت کے خلاف جنگ" کے لیے بھی کام کر رہا ہے۔
شہزادہ فیصل نے کہا، مملکت شام کے ساتھ تعلقات بحال کر کے، یمن کے بحران کو حل کرنے پر زور دے کر اور سوڈان میں امن و استحکام کے لیے کوششیں کر کے خطے میں امن قائم کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ نیز انہوں نے کہا کہ ان کا ملک جدہ میں سوڈانی امن مذاکرات کے تیسرے دور کی میزبانی کی تیاری کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا، سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات "خودمختاری کے احترام، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور اقوامِ متحدہ کے منشور کے احترام کی بنیاد پر بحال کیے ہیں۔"
"ہمیں امید ہے کہ ایران بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون کرے گا بالخصوص اپنے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے۔"
شہزادہ فیصل نے کہا کہ سعودی عرب کی ترجیح ہے کہ "آئندہ نسلوں کی ضروریات کو پورا کرنا، خواتین اور نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور دنیا کے ساتھ پل بنانا جاری رکھے۔" نیز انہوں نے کہا، مملکت موسمیاتی تبدیلی جیسے بڑے عالمی مسائل سے نمٹ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گذشتہ ستمبر میں سعودی عرب نے آبی وسائل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک بین الاقوامی تنظیم بنائی۔
شہزادہ فیصل نے کہا، مملکت جسے ایکسپو 2030 کی میزبانی کے لیے منتخب کیا گیا ہے، وہ اس فورم کو "(اقوامِ متحدہ کے) پائیدار ترقی کے اہداف پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے استعمال کرے گی۔" انہوں نے مزید کہا، یہ تقریب "پائیداری کے حوالے سے سیاسی حل تلاش کرنے کا ایک موقع ہے اور ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ہمارے وعدوں کے احترام کا بھی۔"
انہوں نے کہا: "ہمیں امید ہے کہ جو کوششیں جاری ہیں، وہ ہمیں پوری انسانیت کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے باہمی احترام کے ساتھ ایک مشترکہ اصول قائم کرنے کے قابل بنائے گی۔"