اقوامِ متحدہ کے پناہ گزینوں کے سربراہ نے پیر کے روز کہا ہے کہ اسرائیلی فضائی حملوں کی وجہ سے لبنان سے تقریباً 100,000 افراد شام فرار ہو چکے ہیں اور یہ تعداد دو دنوں میں دوگنی ہو گئی ہے۔
فلیپو گرانڈی نے ایکس پر کہا، "اسرائیلی فضائی حملوں سے فرار ہو کر لبنان سے شام میں داخل ہونے والے -- لبنانی اور شامی شہریوں -- کی تعداد 100,000 تک پہنچ گئی ہے"۔
انہوں نے خبردار کیا، "لوگوں کا فرار جاری ہے۔"
انہوں نے کہا، ان کی اقوامِ متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی (یو این ایچ سی آر) "نئے آنے والوں کی مدد کے لیے مقامی حکام اور (شامی ہلالِ احمر) کے ساتھ چار سرحدی مقامات پر موجود ہے۔"
یو این ایچ سی آر نے ہفتے کے روز اے ایف پی کو بتایا کہ ایک ہفتہ قبل 23 ستمبر کو جنگ زدہ شام میں وسیع پیمانے پر نقل مکانی شروع ہو گئی تھی۔
یو این ایچ سی آر کے مطابق جمعہ تک 30,000 افراد شام میں داخل ہو چکے تھے۔
شام میں ایجنسی کے نمائندے گونزالو ورگاس لوسا نے کہا کہ تقریباً 80 فیصد شامی شہری اور 20 فیصد لبنانی تھے۔
انہوں نے نامہ نگاروں کو بتایا، "زیادہ تر عورتیں اور بچے ہیں، اگرچہ کچھ تعداد میں مرد بھی ہیں۔ تقریباً نصف بچے اور نوعمر ہیں۔"
انہوں نے زور دیا کہ فرار ہونے والے لوگ "ایک ایسے ملک میں پہنچ رہے ہیں جو 13 سال سے زیادہ عرصے سے اپنے ہی بحران اور تشدد کے ساتھ ساتھ معاشی تباہی کا شکار ہے۔"
انہوں نے مزید کہا، "بمباری سے فرار ہونے والے لوگ تھکن سے چور، صدمے سے دوچار اور مدد کی اشد ضرورت کے ساتھ شام پہنچے ہیں۔"