حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نعیم قاسم کون ہیں؟
حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے حزب اللہ کے اسرائیل مخالف روایتی مؤقف کو برقرار رکھتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ حزب اللہ قیادت کے بڑے نقصان کے باوجود اسرائیل کے خلاف اپنی مزاحمت جاری رکھے گی۔ نیز جلد ہی شہید سربراہ حسن نصراللہ کی جگہ پر نئے سربراہ کی تقرری عمل میں لائی جائے گی۔
نعیم قاسم نے یہ بات حزب اللہ سربراہ حسن نصرااللہ کے بدترین اسرائیلی بمباری کی نتیجے میں قتل ہونے کے بعد حزب اللہ کی طرف سے پہلے باضابطہ پالیسی بیان میں کہی ہے۔ حزب اللہ کو اپنا پالیسی بیان جاری کرنے کے لیے تین سے چار دن لگے ہیں۔
نعیم قاسم نے 19 منٹ پر مبنی اپنے ٹی وی خطاب میں کہا 'حزب اللہ اپنے اسی سفر کو جاری رکھے گی جس پر آج سے پہلے موجود تھی۔ خیال رہے حسن نصراللہ جمعہ کے روز کی گئی اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہوئے۔ جسے حزب اللہ کے لیے بہت بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔
حزب اللہ کی طرف سے اس مشکل صورتحال میں پہلا پالیسی بیان دینے والے نعیم قاسم کون ہیں؟ ان کے بارے میں چند حقائق ان سطور میں پیش کیے جا رہے ہیں۔ نعیم قاسم حزب اللہ کے سینیئر ترین جنگجوؤں میں سے ہیں اور وہ 1991 سے حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ہیں۔
ان کی اس عہدے پر تقرری حزب اللہ کے پہلے سربراہ عباس الموسوی نے 1991 میں کی تھی۔ عباس الموسوی کو ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے 1992 میں بمباری کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ عباس الموسوی کی ہلاکت کے بعد حسن نصراللہ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کے سربراہ بنے تھے۔
نعیم قاسم نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1974 میں شیعہ امل موومنٹ کے پلیٹ فارم سے کیا۔ تاہم ایرانی انقلاب کے بعد 1989 میں وہ شیعہ امل موومنٹ سے الگ ہو گئے۔
ایرانی انقلاب کے بعد لبنان کے شیعہ نوجوانوں پر بھی ایرانی سیاسی فکر کی چھاپ نمایاں ہو گئی۔ جس کے نتیجے میں حزب اللہ کا قیام وجود میں آیا۔ نعیم قاسم حزب اللہ کو قائم کرنے والوں میں شامل تھے۔
نعیم قاسم 1982 میں وجود میں آنے والیی حزب اللہ کے ایک طویل عرصے تک ترجمان بھی رہے۔ انہوں نے بین الاقوامی نشریاتی اداروں کو بارہا انٹرویو دیے اور اسرائیل کے ساتھ بار بار کی کشیدگی کے بارے میں حزب اللہ کا مؤقف پیش کرتے رہے۔
ماہ جون میں رواں سال انہوں نے اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کے بارے میں کہا ' حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ جنگی پھیلاؤ نہیں چاہتا۔ تاہم حزب اللہ پر جنگ مسلط کی گئی تو وہ پیچھے نہیں ہٹے گا اور اسرائیل سے لڑے گا۔'
نعیم قاسم 1992 میں حزب اللہ کے پارلیمانی انتخابی عمل میں شرکت کے دوران حزب اللہ کے سیاسی رابطہ کار کے طور پر بھی نمایاں رہے۔
ان کا آبائی تعلق بیروت کے علاقہ باستا تحتہ سے ہے جہاں وہ 1953 میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان بنیادی طور پر کفر فیلہ کے علاقے سے تعلق رکھتا ہے جو جنوب میں شیعہ آبادی کی اکثریت کا علاقہ سمجھا جاتا ہے۔
-
نصر اللہ کے قتل کے بعد حزب اللہ کے نائب سربراہ پہلا خطاب کریں گے
حسن نصر اللہ کے بعد حزب اللہ کے کسی عہدیدار کا پہلا خطاب
بين الاقوامى -
اسرائیلی فوج کی زمینی کارروائی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں:حزب اللہ
لبنانی حزب اللہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نعیم قاسم نے کہا ہے کہ یہ ان کی جماعت جلد از ...
بين الاقوامى -
لبنان : نگران حکومت حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کو تیار ؟
لبنان کی حکومت نے اس بارے میں آمادگی ظاہر کی ہے کہ اقوام متحدہ کی ان قراردادوں پر ...
مشرق وسطی