خامنہ ای کمپلیکس سمیت ایران میں اسرائیل کے اور کون سے اہداف ہوسکتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اگرچہ اسرائیل کے اندر ایرانی میزائل حملے کے ردعمل کے پیمانے اور اس میں شامل اہداف کے بارے میں بات چیت جاری ہے۔ بعض ذرائع نے کئی امکانات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ذرائع نے ایسے مقامات کی طرف توجہ دلائی ہے جو ممکنہ طور پراسرائیلی حملے کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

کئی اسرائیلی حکام کی جانب سے گذشتہ چند دنوں کے دوران یہ انکشاف کیا گیا تھا تمام امکانات زیرغور ہیں۔ ایران کی جوہری تنصیبات، تیل کے اسٹیشنز اور خامنہ ای کمپلیکس پر حملہ ہوسکتا ہے۔اگرچہ امریکہ نے اسرائیل کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرے۔

اسرائیلی ذرائع نے اس امکان کی طرف اشارہ کیا کہ ٹارگٹ بینک میں ایران کے اندر اہم اقتصادی نظام جیسے تیل اور گیس کی سہولیات شامل ہوسکتی ہیں۔

اتوار کو اسرائیلی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق متوقع اسرائیلی حملے ایرانی صدارتی کمپلیکس اور سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے کمپاؤنڈ کے ساتھ ساتھ تہران میں پاسداران انقلاب کے ہیڈ کوارٹر کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

امریکہ کے ساتھ کوآرڈینیشن

تاہم یہ اہداف اسرائیل میں فیصلہ سازوں کی میز پر موجود کچھ آپشنز کی نمائندگی کرتے ہیں، جس کی ذرائع نے تصدیق کی ہے۔

خاص طور پر چونکہ تل ابیب طاقت سے کام کرنے سے پہلے امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی کو ترجیح دیتا ہے۔ چونکہ اسرائیلی ردعمل کے سنگین نتائج کی توقع ہے اور اس کے لیے امریکی تعاون کی ضرورت ہے۔

امریکی اور اسرائیلی حکام نے گذشتہ چند دنوں کے دوران اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اسرائیل کا سخت ردعمل ناگزیر ہے، تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات نہیں بتائیں۔

’سی این این‘ کے مطابق ایک امریکی اہلکار نے مشورہ دیا کہ جواب سات اکتوبر سوموار کے روز آسکتا ہے۔

کئی امریکی عہدیداروں نے وضاحت کی کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی کال کے باوجود تل ابیب نے واشنگٹن کو ایرانی جوہری تنصیبات پر حملہ نہ کرنے کی کوئی ضمانت فراہم نہیں کی۔

قابل ذکر ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اس نے گذشتہ منگل کی شام تین اسرائیلی فوجی اڈوں پر 180 سے زیادہ میزائل داغے۔ تہران نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مشن کامیابی سے مکمل کرلیا ہے۔

تاہم اسرائیل نے کہا کہ چند میزائلوں نے دو فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا، جس سے کوئی خاص نقصان نہیں ہوا۔ اس کے ساتھ تل ابیب نے تہران میں دردناک ردعمل کی دھمکی دی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں