قلم کے میدان سے فلم کی دنیا میں آنے والی سعودی مصنفہ مریم کو کیا مشکلات پیش آئیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب کی لکھاری مریم عبدالرحمٰن بچپن سے ہی اپنی ماں کی کہانیوں سے متاثر ہو کر کہانیاں لکھنا شرعو کیں۔ انہوں نے اپنے دل میں ساتویں فن کے لیے جذبہ پیدا کیا۔ ہر تجربہ چاہے وہ غلطی ہو یا کوئی کامیابی اس کے نتیجے میں مریم کی فنکارانہ نظر میں اضافہ ہوا اور اس کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوا۔ آج وہ ایسی فلمیں بنانے کی کوشش کرتی ہیں جو سعودی ثقافت کی گہرائی سے اور حقیقت پسندانہ عکاسی کرتی ہیں۔

ان کا تعلق ادب اور لٹریچر سے تھا مگراب ان کی پہچان فلم پروڈکشن میں ہورہی ہے۔

سنیما میں کام کا آغاز

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے مریم عبدالرحمان کہتی ہیں کہ’مجھے بچپن سے ہی پڑھنے اور لکھنے کا شوق تھا اور میں بیانیہ کے انداز کی طرف مائل تھی اور میں اپنے تخیل میں تمام کہانیوں کی تصویر کشی کرتی تھی۔ جب میں بڑی ہوئی تو میں میری بہت سی تحریریں جمع ہوچکی تھیں۔ میں جانتی تھی کہ ایک دن آئے گا جب میں ان کہانیوں سے لوگوں کو متاثر کروں گی۔ مجھے اس طرف مائل کرنے والی میری ماں تھی۔ میں اس کی کہانیاں غور سے سنتی اور میں کبھی بور نہیں ہوتی تھی۔ یہاں تک کہ اگر وہ ایک ہی کہانی کو بار دہراتی تو میں اپنے ذہن میں کہانی کو چشم تصورسے دیکھنے کی کوشش کرتی۔

مريم عبدالرحمن
مريم عبدالرحمن

راستہ کب بدلا؟

انہوں نے مزید کہا کہ شروع میں میرا نقطہ نظر واضح نہیں تھا اور غلطیاں بہت ہوتی تھیں لیکن میں نے ان تمام تجربات سے سیکھنے کی کوشش کی جو مجھے معلوم ہوئی ہے۔ بہت سے فلمسازوں سے جب ہم اپنے تجربات کے بارے میں بات کرتے ہیں میں ان میں سے کچھ نیا سیکھتی ہوں، جن لوگوں کو میں نے متاثر کیا، ان میں سے ایک میرے استاد مشہور مصنف ڈیوڈ آئزکس تھے، جنہوں نے مجھے لکھنے کے بارے میں بہت حد تک قائل کیا۔ میں ان کی شکرگذار ہوں۔

مریم عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ فی الحال مجھے سب سے مشکل چیلنج میری نئی فلم ہے۔ اس کا عنوان "لیلیٰ ان دی لائبریری" ہے۔اس کا اسکرپٹ میں نے لکھا ہے ، ہدایت کاری اور پروڈکشن بھی میری ہوگی۔ یہ میرے لیے ایک بہت بڑا چیلنج ہے، کیونکہ اس میں کافی وقت لگےگا۔ فلم بنانے کے لیے مناسب جگہ کی تلاش کے علاوہ اسے تیار کرنے کا وقت چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں