جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوج نے ایک ہسپتال پر بمباری کر کے غیر ملکی ڈاکٹروں میں بھی خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔
ناروے سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر گربرٹ پیرڈ نے ایک ویڈیو کال میں کہا ہے ' ہسپتال پر فوجی بمباری دیکھنے کا یہ تجربہ غیر معمولی حد تک خوفناک رہا ہے۔' وہ جنوبی قصبے نبتیہ سے ویڈیو کال کر رہے تھے۔
ڈاکٹر نے کہا 42 سال کا عرصہ گزر گیا ہے لیکن کچھ بھی تبدیل نہیں ہو سکا ہے۔
ان کے مطابق انہوں نے اس سے قبل 1982 میں مریضوں کو ایک جنگ کے دوران اسی بیروت میں ہی دیکھا تھا جب فوج نے بیروت کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ اب پھر لبنان کا ہسپتال اسرائیلی بمباری کی زد میں ہے۔
کھڑکی سے نیچے پیرا میڈیکل سٹاف ایمبولینس کے لیے بنی پارکنگ میں تیار کھڑا تھا۔ ہسپتال کے انستھیزیا اور ایمرجنسی سے متعلق ڈاکٹروں اور عملے کے مطابق وہ منگل کے روز محض چند کیسز دیکھ سکے تھے۔
ڈاکٹروں کے مطابق ایسے کیسز کا تعلق زیادہ تر جنوبی لبنان کے اس علاقے سے تھا جو اسرائیلی بمباری کی زد میں تھے اور وہ بمباری والے علاقے سے بچ کے نکل نہیں سکتے تھے۔ ڈاکٹر گلبرٹ کے مطابق بمباری بہت خطرناک تھی۔
واضح رہے اسرائیلی فوج نے لبنان میں بمباری بڑھا دی ہے۔ اسرائیل کے بقول اس کا اصل ہدف حزب اللہ کے جنگجو ہیں۔ تاہم جس اندھے پن کے ساتھ اسرائیل بمباری کر رہا ہے اس سے صرف جنگجو متاثر نہیں ہو رہے ہیں۔ یہ سلسلہ پچھلے چند ہفتوں سے جاری ہے۔
اسرائیل نے پہلے 23 ستمبر سے بمباری کا سلسلہ شروع کیا اور بعد ازاں زمینی آپریشن شروع کر دیا۔ اسرائیلی بمباری کے تازہ واقعات میں 1100 لبنانی ہلاک اور 3600 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ جبکہ لاکھوں کی تعداد میں لبنانی بے گھر ہو چکے ہیں۔
لبنانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق کئی علاقوں میں پورے کے پورے خاندان بھی بمباری سے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے غزہ میں اسرائیلی جنگ کا ' ایکشن ری پلے ' ہو رہا ہے۔
غزہ جنگ جیسے حالات
غزہ کی طرح اسرائیلی فوج لبنان جہاں چاہے جس طرح کے چاہے حملے کر رہی ہے۔ حتی کہ اس نے غزہ کی طرح لبنان میں ہسپتالوں اور طبی عملے بشمول ڈاکٹروں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر رکھا ہے۔
ڈآکٹر گلبرٹ کے مطابق' ایمبولینسز کے علاوہ مسجدیں اور گرجا گھر بھی اسرائیلی بمباری کا نشانہ بن رہے ہیں۔ پہلے یہی تباہی اسرائیلی فوج نے غزہ کے ہسپتالوں میں کی ہے اور اب لبنان میں ہسپتالوں پر حملے کرنے لگی ہے۔
ان کے مطابق اسرائیلی فوج نے ہفتے کی رات سرحد سے قریب ہی ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا ہے۔ اس حملے میں ہسپتال کے نرسنگ سٹاف کے 9 ارکان زخمی ہو گئے ہیں۔ جن میں سے زیادہ تر کی حالت نازک ہے۔
علاوہ ازیں اب تک لبنان میں کم از کم چار ہسپتال اسرائیل کی بمباری کی وجہ سے اپنے پیشہ ورانہ امور میں رکاوٹ دیکھ چکے ہیں۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق اب تک اسرائی فوج طبی عملے کے 40 ارکان کو ہلاک کیا ہے۔ یہ ہلاکتیں تین دنوں کے دوران ہوئی ہیں۔ اسی طرح حزب اللہ کے طبی عملے کے 11 ارکان بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔
-
امریکہ کی انتظام کردہ تازہ ترین پروازوں میں لبنان سے 145 افراد کا انخلاء
امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا کہ اس نے لبنان سے انخلاء کے لیے ہفتے کے روز دو پروازوں ...
مشرق وسطی -
اسرائیلی حملے تیز، لبنان میں تعلیمی سال کا آغاز ملتوی
اب نیا تعلیمی سال چار نومبر کو شروع ہو گا
بين الاقوامى -
لبنان میں نئے اسرائیلی حملے، میقاتی کا جنگ بندی کے لیے 'اسرائیل پر دباؤ' پر زور
امریکی اور فرانسیسی کوششوں کی حمایت
مشرق وسطی