جاپان نے اسرائیل پر ایک سال قبل حماس کے حملے کی مذمت کی ہے تاہم اس کے ساتھ ہی کہا ہے کہ اسے پچھلے ایک سال سےغزہ میں انسانی المیے جیسی صورت حال پر بھی گہری تشویش ہے۔ جاپان کی طرف سے یہ بیان سات اکتوبر 2023 کے سلسلے میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل پر حماس نے راکٹوں سے ایک تاریخی اعتبار سے بے مثال حملہ کیا تھا۔
خیال رہے اس سے پہلے بھی جاپان کی طرف سے مسلسل اسی انداز میں سات اکتوبر کے حملے اور اسرائیلی فوج کے ہاتھوں غزہ میں جاری بمباری اور مظالم پر مذمت کے اور تشویش کے مشترکہ بیان جاری کیے گئے ہیں۔
جاپان نے کے وزیر خارجہ تاکیشی لاوایا نے اس امر کا اظہار پیر کے روز ایک بیان میں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس اسرائیل کے ایک سال سے قید کیے گئے یرغمالیوں کو فوری رہائی دے۔
وزیر خارجہ جاپان نے کہا ' اس کے ساتھ ہی جاپان کو غزہ انسانی حوالے سے پچھلے ایک سال سے پیدا کر دی گئی صورت حال پر گہری تشویش ہے کہ بہت بڑی تعداد میں شہری قتل کر دیے گئے ہیںاور دونوں طرف کے لوگ اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔'
انہوں نے مزید کہا 'اس لیے ہمارا اسرائیل سمیت تمام فریقوں سے مطالبہ ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون کی پابندی کریں ، بین الاقوامی سطح پر انسانی حوالے سے موجود قوانین کی بھی پروا کریں نیز جنگ بندی کا اہتمام کریں ۔ '
جاپان کے وزیر خارجہ نے اپنے ملک کی طرف سے مشرق وسطیٰ میں مسلسل کشیدگی بڑھانے کے حوالے سے سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ بھی سخت نیز مقبوضہ مغربی کنارے، لبنانی سرحد ، بحیرہ احمر اور خلیج عدن اور ایران میں حالات پر تشویش ظاہر کی ہے۔