اقوام متحدہ کے پناہ گزینوں کے شعبے کے سربراہ فلیپو گرینڈی نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے ' لبنان میں بمباری اور حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔ کیونکہ ان حملوں اور بمباریوں کی صورت شہری آبادیوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ شہری ہلاک ہو رہے ہیں اور شہری انفراسٹرکچر تباہ ہو رہا ہے۔ '
فلیپو گرانڈی نے ان خیالات کا اظہار لبنان میں جاری بمباری اور نئے اسرائیلی جنگی محاذ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔ وہ بیروت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہہ رہے تھے 'یہ بد قسمتی ہے کہ جس طرح لبنان میں بمباری کی جا رہی ہے اس سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ اس بمباری کے نتیجے میں شہری مر اور تباہ ہو رہے ہیں اور شہری زندگی کا پورا انفراسٹرکچر تباہ کیا جا رہا ہے۔ یہ انسانی زندگی اور معمولات کی تباہی ہے۔'
وہ بیروت میں بے گھر ہوکر نقل مکانی پر مجبور ہونے والے لبنانی شہریوں کے سلسلے میں پہنچے تھے۔ جہاں ان کے اندازے کے مطابق اب تک بارہ لاکھ لبنانی شہری نقل مکانی پر اس بمباری نے مجبور کر دیے ہیں۔ جبکہ اسرائیلی بمباری کے تسلسل کے ساتھ ساتھ اب زمینی فوجی کارروائیاں بھی شروع ہو چکی ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ ایرانی حمایت یافتہ حزب اللہ کو نشانہ بنانے کے لیے بمباری کرتا ہے۔
چند ہفتے پہلے تک اسرائیل نے غزہ میں اپنی جنگ کے ساتھ ساتھ حزب اللہ کے خلاف اپنی جنگ کو بالعموم سرحدوں تک محدود رکھا ہوا تھا۔ لیکن اب اسے ایک کھلی جنگ میں بدل چکا ہے۔ گرینڈی نے کہا ' اس جنگ کے تمام فریق اس جنگ کے حوالے سے اثر رسوخ رکھتے ہیں انہیں چاہیے کہ اس خونریزی اور تباہی کو روکیں۔ یہ غزہ اور لبنان دونوں میں روکی جائے۔'
خیال رہے اب تک لبنان میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 2 ہزار سے زائد ہلاک اور کم ازکم 10 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ یہ ساری خونریزی پچھلے دو ہفتوں کے دوران ہوئی ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے 50 فوجی مارے گئے ہیں۔
اسرائیل عام آبادیوں پر بمباری کرتے ہوئے حماس اور حزب اللہ دونوں کو الزام دیتا ہے کہ یہ دونوں شہریوں کے پیچھے چھپتے ہیں۔ گرینڈی نے کہا عالمی ادارہ صحت نے انہیں بتایا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی سخت خلاف ورزی جاری ہے اور ہسپتال و طبی عملہ بھی نشانے پر ہے۔ لبنان میں مختلف جگہوں پر بمباری میں علاج گاہیں بھی ہدف بنائی جارہی ہیں۔
واضح رہے اس سے قبل اسرائیلی فوج غزہ میں بھی ہسپتالوں اور طبی عملے کو اپنی بمباری اور ٹینکوں تک کا نشانہ بنا چکی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں گرینڈی نے کہا لبنانی سرحد عبور کر کے شام جانے والے نقل مکانی کرنے والے 220000 میں سے 70 فیصد شامی شہری ہیں جو واپس چلے گئے ہیں اور 30 فیصد لبنانی شہری ہیں۔ تاہم یہ سلسلہ جاری ہے کہ اسرائیلی بمباری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔