مصری پبلک پراسیکیوشن کی تحقیقات نے ایک 13 سالہ نابالغ لڑکی کی شادی اس وقت ناکام بنا دی جب اس کی عروسی لباس میں تصاویر سوشل میڈیا پر شائع ہوئیں۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب پبلک پراسیکیوشن نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ "فیس بک" پر ایک ویڈیو کلپ پر نوٹس لیا جس میں ایک لڑکی عروسی لباس میں دکھائی دے رہی تھی۔ لڑکی کی عمر تیرہ سال بتائی گئی تھی۔
یہ ثابت ہوا کہ بچی ایک مڈل سکول کی طالبہ ہے اور اس کی منگنی کی پارٹی قریب آ رہی تھی۔ چائلڈ پروٹیکشن کمیٹی کی رپورٹ میں یہ بھی ثابت ہوا کہ بچی کے والد اور والدہ کے درمیان علیحدگی ہوچکی تھی۔ اس لیے والد نے بچی کی منگنی کرانے کے بعد اس کی شادی کرانےکی کوشش کی۔
کمیٹی نے سفارش کی کہ وہ بچی کو اس کے حوالے کر دے، وہ خود اس کی اچھی دیکھ بھال کرنے اور قانونی عمر کو پہنچنے کے بعد اس کی شادی کا انتظام کرے گی۔
پبلک پراسیکیوشن نے شہریوں مطالبہ کیا کہ نابالغوں سے شادی کرنے سے گریز کریں اور خواتین اور بچوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔
-
بیونس آئرس میں ہوٹل کی بالکونی سے گر کر برطانوی گلوکار لیئم کی موت
دنیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والے شہرہ آفاق بینڈ 'ون ڈائریکشن' کے 31 سالہ معروف ...
بين الاقوامى -
دنیا بھر میں ایک ارب سے زیادہ افراد شدید غربت کا شکار ہیں: رپورٹ
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں ایک ...
بين الاقوامى -
بیٹی اپنے خاکروب والد کی سالگرہ پرمبارک باددینےسڑک پرپہنچ گئی،دونوں کی آنکھوں سےآنسوجاری
بیٹی کو دیکھ کرباپ جذباتی ہوگیا، واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
بين الاقوامى