اسرائیلی فوج کے حوالے سے ایک طنزیہ ویڈیو نے فوجی ترجمان کو آگ بگولہ کردیا۔ صہیونی فوج کے ترجمان ڈینیئل ہگاری نے ویڈیو پر اپنے غصے کا اظہار کیا اور اس ویڈیو کو فوج کی توہین قرار دے دیا۔ انہوں نے کہا کہ دائیں بازو کے چینل 14 کی طرف سے اور خاص طور پر ’’ ایکس‘‘ پر نشر یہ ویڈیو فوج کو نقصان پہنچا رہا ہے اور اس نے ریڈ لائنز کو عبور کرلیا ہے۔
مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ہگاری نے اسرائیلی چینل کو سخت الفاظ میں پیغام بھیجا اور کہا کہ اس کلپ سے فوج کو نقصان پہنچتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ویڈیو نے جنگ کے وقت اسرائیلی فوج اور اس کے رہنماؤں کے خلاف جان بوجھ کر اکسایا اور ان کے خلاف نفرت پیدا کی ہے۔
فوجی ترجمان نے یہ بھی کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ چینل 14 نے اسرائیلی فوج کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کیا ہے۔ انہوں نے اس ویڈیو کو فوری طور پر ہٹانے کا مطالبہ بھی کردیا۔ تاہم چینل 14 نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا اور وہ ویڈیو اب بھی پلیٹ فارم "X" پر موجود ہے۔
اس کلپ میں ایسا کیا ہے جس نے ہگاری کو اس قدر طیش دلا دیا ہے۔ دراصل ویڈیو میں اسرائیلی آرمی چیف آف سٹاف ہرزل ہیلیوی کو اپنے سپاہیوں کے درمیان معمول کے مطابق چلتے ہوئے دکھایا گیا۔ یہاں تک کہ اس کی نظر فوجیوں میں سے ایک کے بازو پر لگے سٹیکر پر پڑی جس پر "المسیح" لکھا ہوا تھا۔ اسے دیکھ کر اس کا چہرہ غصے سے بھر گیا اور اس کی آنکھیں ابل گئیں۔ پھر اس نے چیخنا شروع کردیا۔
یہ کلپ ان رپورٹس کے جواب میں سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ ہیلیوی نے جنوبی لبنان کی سرحد پر لڑنے والے ایک سپاہی کو ایک پیچ ہٹانے کا حکم دیا تھا جس پر اس نے لفظ "المسیح" لکھا ہوا تھا۔ یہ لفظ یہودیوں کے تصور میں "المسیح" کے آنے کی علامت ہے جو یہودیوں کے لیے ان کے تصور کے مطابق ایک منصفانہ ریاست قائم کرے گا۔ یہ لفظ حال ہی میں فوجیوں کے درمیان ایک غیر معمولی انداز میں پھیل گیا ہے اور کچھ لڑنے والے فوجیوں کے مذہبی پس منظر پر روشنی ڈال رہا ہے۔