فسلطینی صدر محمود عباس کے دفتر نے فلسطینیوں کو امداد پہنچانے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی 'انروا' سے متعلق اسرئیلی قانون سازی کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ ساتھ ہی باور کرایا گیا ہے کہ یہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی اور اقوام متحدہ کے فیصلوں کو چیلنج کرنا ہے۔
فلسطینی صدر کے سرکاری ترجمان نبیل ابو ردینہ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا مقصد فلسطینی پناہ گزینوں کا معاملہ، ان کی واپسی اور زر تلافی کا حق ختم کر دینا ہے تاہم اس کی ہر گز اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ فیصلہ صرف پناہ گزینوں کے خلاف نہیں بلکہ اقوام متحدہ اور پوری دنیا کے خلاف ہے جس نے اونروا کی تشکیل کا فیصلہ کیا۔
ابو ردینہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین کو نقصان پہنچانے والے اس خطرناک فیصلے کے سامنے عملی موقف اپنائے۔