حزب اللہ کا مقتول سربراہ حسن نصر اللہ کی جگہ نعیم قاسم کا انتخاب
وہ لبنان میں جنگ بندی کی کوششوں کی حمایت کر چکے ہیں
لبنانی مسلح گروپ حزب اللہ نے منگل کو کہا کہ اس نے گروپ کے مقتول سیکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کی جگہ نائب سربراہ نعیم قاسم کو منتخب کر لیا ہے۔ نصر اللہ ایک ماہ قبل بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے میں اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے تھے۔
گروپ نے ایک تحریری بیان میں کہا ہے کہ اس کی شوریٰ کونسل نے انتخاب کے لیے اپنے قائم کردہ طریقہ کار کے مطابق 71 سالہ قاسم کو سیکریٹری جنرل منتخب کیا ہے۔
انہیں 1991 میں مسلح گروپ کے اس وقت کے سیکریٹری جنرل عباس الموسوی نے حزب اللہ کا نائب سربراہ مقرر کیا تھا۔ الموسوی اگلے سال اسرائیلی ہیلی کاپٹر کے حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔
قاسم کا کردار نصراللہ کے رہنما بننے کے بعد بھی برقرار رہا اور وہ طویل عرصے سے حزب اللہ کے سرکردہ ترجمانوں میں سے ایک رہے ہیں۔ انہوں نے غیر ملکی میڈیا کے ساتھ انٹرویوز کیے جو اسرائیل کے ساتھ گذشتہ ایک سال کے دوران سرحد پار دشمنی کے دوران بھی جاری رہے۔
نصراللہ کے بعد حزب اللہ کے سینئر رہنما ہاشم صفی الدین کو ممکنہ جانشین سمجھا جا رہا تھا لیکن وہ بھی ایک ہفتے بعد اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔
نصراللہ کے قتل کے بعد سے قاسم نے ٹیلیویژن پر تین بار خطاب کیا ہے جن میں سے ایک میں آٹھ اکتوبر کو انہوں نے مسلح گروپ کی طرف سے لبنان کے لیے جنگ بندی کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔
لبنان میں کئی لوگوں کا خیال ہے کہ نعیم قاسم میں وہ کرشماتی شخصیت، کشش اور وقار نہیں ہے جو نصراللہ کو حاصل تھا۔
ایکس پر اسرائیلی حکومت کے سرکاری عربی اکاؤنٹ نے پوسٹ کیا، "اگر وہ اپنے پیش رو حسن نصر اللہ اور ہاشم صفی الدین کے نقشِ قدم پر چلیں تو اس عہدے پر ان کا دور حزب اللہ کی تاریخ میں مختصر ترین ہو سکتا ہے۔"
پوسٹ میں لکھا گیا، "لبنان میں اس تنظیم کو ایک فوجی طاقت کے طور پر ختم کرنے کے سوا کوئی حل نہیں ہے۔"