اسلامی جہاد نے غزہ میں قید یرغمالی کی ایک اور ویڈیو جاری کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسلامی جہاد گروپ نے جمعہ کے روز ایک اسرائیلی یرغمالی کی نئی فوٹیج جاری کی ہے۔ اسلامی جہاد گروپ غزہ میں فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کا اتحادی گروپ ہے جو اسرائیلی جارحیت کا ایک سال سے زائد عرصہ سے مقابلہ کر رہی ہیں۔

جمعہ کے روز جس اسرائیلی یرغمالی کی فوٹیج جاری کی گئی ہے۔ اس کا نام ساشا تروپانوو بتایا گیا ہے۔ یرغمالی اکتوبر 2023 سے غزہ میں اسلامی جہاد گروپ کی قید میں ہے۔ اس ہفتے کے دوران یہ پہلی ویڈیو جاری کی گئی ہے۔

اس اسرائیلی یرغمالی کی ویڈیو جاری کیے جانے کے بعد اس کے رشتے داروں نے شناخت کیا ہے۔ اس کی پچھلی ویڈیو بدھ کے روز جاری کی گئی تھی۔ جس میں وہ انتہا پسند اور کٹر یہودی جماعت شاس کے سربراہ آری ڈیری سے اپیل کرتا دکھایا گیا ہے۔

واضح رہے شاس پارٹی نیتن یاہو کی حکومت میں ایک اتحادی جماعت کے طور پر شامل ہے۔ یرغمالی نے شاس کے سربراہ سے اپیل میں اپنی اور دوسرے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کوششیں کرنے کا کہا ہے۔

یہ 29 سالہ یرغمالی جس کی ویڈیو جمعہ کے روز سامنے لائی گئی ہےاسرائیل کے ساتھ روسی شہریت کا بھی حامل ہے۔ اس سات اکتوبر کو اس کی دوست کے ہمراہ غزہ سے متصل آبادی نیر اوز کبوتز سے مزاحمت کاروں نے حراست میں لیا تھا۔

اس یرغمالی کی والدہ اور نانی کو یرغمال بنایا گیا تھا۔ تاہم انہیں پچھلے سال نومبر میں کی گئی جنگ بندی کے دوران رہائی مل گئی تھی۔ البتہ اس کے والد کی سات اکتوبر کے حملے کے دوران ہلاکت ہو گئی تھی۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زہراوف نے اس یرغمالی و دیگر کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ روسی ترجمان کا اس سلسلے میں مطالبہ یرغمالی کی نئی فوٹیج کے جاری کیے جانے سے پہلے سامنے آیا ہے۔

ترجمان نے کہا ' ہم سویلین قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں۔ جبکہ ہمارے روسی شہریوں کی رہائی ترجیحی بنیادوں پر کی جائے۔ 35 سالہ دوسرے روسی یرغمالی ہرکین کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ہرکین کو نووا کے علاقے سے سات اکتوبر 2023 کو حراست میں لیا گیا تھا۔

اسرائیلی اطلاعات کے مطابق اب غزہ میں 97 یرغمالی قید ہیں۔ جبکہ 34 کی ہلاکت قید میں ہی ہو چکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں