اسرائیل کے ساتھ فائر بندی، لبنان کا امریکہ کی 13 نکاتی تجویز پر غور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لبنان اس وقت حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے امریکی تجویز پر غور کر رہا ہے۔ یہ بات جمعے کو لبنان کے دو سرکاری عہدے داران نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتائی۔

ان میں سے ایک عہدے دار نے نام ظاہر کرنے سے انکار کرتے ہوئے بتایا کہ بیروت میں امریکی سفیر لیزا جونسن نے نگراں وزیر اعظم نجیب میقاتی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری سے ملاقات کی۔ ملاقات میں لیزا نے "13 نکات پر مشتمل امریکی تجویز" بھی پیش کی۔ نبیہ بری نے تجویز پر غور کے لیے "تین روز کی مہلت" طلب کی ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل کی جانب سے ابھی تک اس تجویز پر موقف سامنے نہیں آیا ہے۔

مذکورہ عہدے دار نے امریکی تجویز کی تفصیل پیش نہیں کی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ "فائر بندی پر سمجھوتا طے پانے کی صورت میں امریکہ اور فرانس ایک بیان میں اس کا اعلان کریں گے۔ فائر بندی 60 روز کے لیے ہو گی جس میں لبنان سرحد پر فوج کی تعیناتی شروع کر دے گا"۔

بیروت میں سفارتی ذرائع نے عربی روزنامے "الشرق الاوسط" کو بتایا کہ امریکی تجاویز میں سب سے زیادہ اختلافی شق وہ ہے جس میں فریقین کو اپنے دفاع کا حق دیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق لبنان کو اندیشہ ہے کہ یہ شق نقل و حرکت کی اس آزادی میں تبدیل ہو جائے گی جس کا مطالبہ اسرائیل نے کیا تھا اور لبنان نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

اس کے علاوہ ایک اور شق جو سلامتی کونسل کی قرار داد 1701 پر عمل درآمد کے لیے نگراں کمیٹی قائم کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔ اس شق کے متن کے مطابق دریائے لیطانی کے جنوب کے علاقے کو مسلح افراد سے خالی بنایا جائے۔

ذرائع نے واضح کیا کہ لبنان کو اس کمیٹی کی تشکیل پر اعتراض ہے جس کی سربراہی امریکہ چاہتا ہے۔ لبنانی مذاکرات پہلے یہ تجویز دے چکے ہیں کہ موجودہ کمیٹی کو توسیع دے کر اس میں امریکہ اور فرانس کو شامل کیا جائے۔ یہ تجویز نبیہ بری کی جانب سے برطانیہ اور جرمنی پر اعتراض کے بعد سامنے آئی۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے ساتھ گفتگو میں تجویز کے مسودے کے حوالے سے زیر گردش خبروں پر تبصرے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے باور کرایا کہ سفارتی حل تک پہنچ کر اس کی پاسداری سے مستقل سکون کی واپسی ہو گی اور لبنان اور اسرائیل کے لوگوں کو بحفاظت اپنے گھروں کو واپسی کا موقع ملے گا۔

عالمی سلامتی کونسل کی قرار داد 1701 میں درج ہے کہ لبنان سے اسرائیل کا مکمل انخلا عمل میں لایا جائے، لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج (یونیفل) کی تعیناتی مضبوط بنائی جائے اور سرحدی علاقے میں عسکری وجود کو لبنانی فوج اور امن فوج (یونیفل) تک محدود کیا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں