جہاں ایک طرف غزہ کی پٹی میں بے گھر فلسطینی گھرانے کھانے کی چیزیں حاصل کرنے کے لیے جد و جہد میں مصروف ہیں جب کہ تباہ حال متاثرہ علاقوں میں امدادی سامان کے ٹرکوں کے داخلے کی شدید کمی ہے ، وہاں ان امدادی سامان کے ٹرکوں کی لوٹ مار کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
صرف گذشتہ ہفتے کے دوران میں کُل 109 میں سے 98 ٹرکوں کو لوٹ لیا گیا۔
امدادی ٹرکوں کو کون لوٹ رہا ہے ؟
اس حوالے سے حماس تنظیم کے ذرائع نے العربیہ کو باور کرایا کہ اس بحران کی مکمل ذمے داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔ تنظیم کے مطابق لوٹ مار کرنے والی ٹولیوں کو اسرائیلی فوج کا تحفظ حاصل ہوتا ہے اور وہ فوجیوں کی نظروں کے سامنے پوری آسانی سے حرکت کرتے ہیں۔ حماس کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں تنظیم کے سیکورٹی اداروں نے قبائل کے تعاون سے ان ٹولیوں کے تعاقب کی 15 کارروائیاں انجام دیں۔
"مسلح قبائل؟!"
اسرائیلی ذرائع نے چند روز قبل انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں مسلح قبائل کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والی امداد کے ٹرکوں کو لوٹنے اور ان سے "بھتہ" وصول کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔ یہ بات اسرائیلی اخبار "ہآریتز" نے بتائی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ مسلح حملے اسرائیلی فوجیوں سے چند سو میٹر کی دوری پر ان کی آنکھوں کے سامنے کیے جاتے ہیں۔ مسلح افراد امدادی ٹرکوں کو عارضی چیک پوائنٹ بنا کر یا ٹرکوں کے ٹائروں پر فائرنگ کر کے روک دیتے ہیں۔
غزہ میں کام کرنے والی بین الاقوامی امدادی تنظیموں میں کام کرنے والوں کے مطابق رفح کے علاقے میں دو مشہور قبائل سے وابستہ مسلح افراد 'کرم ابو سالم' گزر گاہ کے راستے غزہ کی پٹی میں داخل ہونے والے ٹرکوں کے ایک بڑے حصے کو روک دیتے ہیں۔ اس موقع پر اسرائیلی فوج تمام باتوں سے صرف نظر کر لیتی ہے۔
حماس کے زیر انتظام وزارت داخلہ نے پیر کے روز بتایا تھا کہ غزہ کی پٹی آنے والے امدادی ٹرکوں کو لوٹنے اور چوری کرنے والی "ٹولیوں" کے خلاف سیکورٹی آپریشن میں 20 سے زیادہ افراد کو ہلاک کر دیا گیا۔ یہ کارروائی رفح شہر کے مشرق میں قبائلی کمیٹی کے تعاون سے کی گئی تھی۔ وزارت داخلہ کے مطابق سیکورٹی آپریشن کا ہدف خود قبائل نہیں تھے بلکہ مقصد ٹرکوں کی چوری اور لوٹ مار کے رجحان پر قابو پانا ہے جس نے سماجی طور پر گہرا اثر ڈالا ہے۔
مذکورہ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے "چوروں کی ٹولیوں" کے اسرائیلی فوج کے ساتھ رابطوں کا پتا چلایا ہے۔ اسرائیلی فوج چوری کی کارروائیوں کو تحفظ فراہم کرتی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل فلسطینی پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی (انروا) کے ذمے داران یہ اعلان کر چکے ہیں کہ رواں ماہ 16 نومبر کو 109 امدادی ٹرکوں پر مشتمل قافلے کو غزہ میں داخل ہونے کے بعد پر تشدد طریقہ کار اختیار کرتے ہوئے لوٹ مارکا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں 98 ٹرک غائب ہو گئے۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کے ترجمان نے باور کرایا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی چوری ایک منظم فعل بن چکی ہے۔
گذشتہ برس سات اکتوبر کو شروع ہونے والی اسرائیل کی تباہ کن جنگ کے 13 ماہ گزرنے کے بعد غذا ، ادویات اور دیگر اشیاء کی شدید قلت کے سبب غزہ کی پٹی کے لوگوں میں بھوک پھیل گئی ہے اور مصائب نے ڈیرے جما لیے ہیں۔