لبنان: بمباری سے مکانوں اور عمارات کی تباہی سے 'ہاؤسنگ سیکٹر' بھی برباد
تجارت، سیاحت اور زراعت کے شعبوں میں نقصان کی مالیت 5،1 ارب ڈالر کو چھو چکی ہے
لبنان میں جاری جنگی ماحول کے باعث رئیل سٹیٹ بزنس تاریخ کے بد ترین دور سے گزر رہا ہے۔ اس امر کا اظہار لبنان میں قائم رئیل سٹیٹ سنڈیکیٹ کے صدر ولید موسیٰ نے 'العربیہ' سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔
لبنان ایک سال سے زائد عرصے سے اسرائیلی اور حزب اللہ کی سرحدی جھڑپوں کی وجہ سے مسائل کا شکار تھا۔ لیکن ستمبر سے اسرائیلی فوج کی دارالحکومت بیروت میں جاری بمباری اور اس کے ساتھ ہی اسرائیلی کے زمینی حملے نے پورے لبنان میں افراتفری کی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ مکانات وعمارات کی بڑی تعداد میں تباہی ساتھ ساتھ پورے ملک میں رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بھی تباہی سے دوچار ہو رہا ہے۔
جنگ نے معمول کی زندگی کے علاوہ کاروباری شعبوں کو بھی سخت نقصان پہنچایا ہے۔ کسی بھی وقت کہیں بھی اسرائیلی بمباری اور ڈرون حملوں یا گولہ باری کی وجہ سے سرمایہ کار بے یقینی اور خوف کے باعث مزید سرمایہ کاری سے بھاگ رہے ہیں۔
حالیہ چند برسوں کے دوران لبنان کی معاشی حالت پہلے ہی دگر گوں تھی، اب اسرائیلی بمباری اور زمینی حملے نے معیشت کو مزید دھچکہ پہنچا دیا ہے۔
عالمی بنک کی چند روز پہلے آنے والی لبنان سے متعلق خصوصی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی شروع کردہ باقاعدہ جنگ سے لبنانی معیشت کو 8.5 ارب ڈالر مالیت کا مجموعی نقصان ہو چکا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مالی نقصان آنے والے دنوں میں بھی جاری رہ سکتا ہے۔
ابتدائی طور پر صرف تجارت، سیاحت اور زراعت کے شعبوں میں نقصان کی مالیت 5،1 ارب ڈالر کو چھو چکی ہے۔
جبکہ براہ راست اشیاء جن میں عمارات و تنصیبات سے ہونے والے نقصان کی سطح 3.4 ارب ڈالر ہے۔ حالانکہ ملک کی حقیقی جی ڈی پی 2024 میں 5.7 فیصد تک سکڑ کر کم ہو جانے کا خدشہ ہے۔ جو کہ تنازعات سے پاک منظر نامے کے سلسلے میں پیش کی گئی پیش گوئی 0.9 فیصد تک کی تھی۔ اس تناظر میں لبنان کا ہاؤسنگ سیکٹر جل کر خاکستر ہو رہا ہے اور بری طرح برباد ہے۔
عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق اب تک 99000 مکانات اور رہائشی یونٹ اسرائیلی بمباری سے نشانہ بن چکے ہیں۔ یہ 2.8 ارب ڈالر کے مالی نقصان کے برابر ہے۔ تاہم اسرائیلی بمباری اور زمینی حملوں کے علاوہ توپ خانے اور ٹینکوں سے بمباری بھی جاری ہے۔
ولید موسیٰ کے مطابق مکانات اور بڑی رہائشی و کاروباری عمارات کی تباہی سے ایک جانب مالی نقصان غیر معمولی ہے تو دوسری جانب بے گھر ہو کر نقل مکانی کرنے والوں کی تعداد بھی 12 لاکھ کو چھو چکی ہے۔ جس سے کرائے کے گھروں کی ضرورت بڑھ گئی ہے۔ نتیجتاً مکانوں اور عمارتوں کے کرائے بھی بہت بڑھ گئے ہیں۔