اسرائیل نے 13 ماہ سے زیادہ عرصے پر محیط غزہ جنگ کے دوران اب تک 44176 فلسطینیوں کو قتل کر دیا ہے۔ ان قتل کیے گئے گئے فلسطینیوں میں سب سے زیادہ تعداد فلسطینی بچوں اور فلسطینی عورتوں کی ہے۔
غزہ کی وزارت صحت کے جاری کردہ بیان کے مطابق صرف پچھلے 48 گھنٹوں کے دوران غزہ کی پٹی پر 120 فلسطینی اسرائیلی فوج نے قتل کیے ہیں۔ یہ تازہ قتل و غارت گری زیادہ تر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ممکن بنائی گئی ہے۔
وزارت صحت کے جاری کردہ بیان میں اب تک غزہ میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی مجموعی تعداد 104473 بتائی گئی ہے۔ خیال رہے اسرائیلی فوج کے لیے زیادہ فلسطینیوں کو زخمی کرنا ایک سٹریٹجی کے طور پر اہم تر ہو چکا ہے۔ کہ ان حالات میں جب غزہ میں شاید ہی کسی بچے کھچے ہسپتال میں علاج معالجہ ممکن ہے اسرائیلی فوج فلسطینیوں کو زخمی کر کے ان کے حوصلوں کو توڑنے کا ذریعہ بنانا چاہتی ہے۔
خیال رہے پچھلے چند ہفتوں کے دوران امریکہ جس ممکنہ جنگ بندی کے لیے خود کو کوشاں بتا رہا ہے امریکی صدارتی انتخاب کے بعد امریکہ کی طرف سے سلامتی کونسل میں پیش کردہ جنگ بندی قرارداد کو ویٹو کر کے جنگ بندی کی امید خود ہی ختم کر دی ہے۔
-
غزہ: ہسپتالوں کے لیے اگلے 48 گھنٹے انتہائی سنگین، ادویات اور ایندھن سب ختم
غزہ کے بچے کھچے چند ہسپتالوں کے لیے ایک بار پھر ایندھن کی فراہمی کا مسئلہ سنگین تر ...
مشرق وسطی -
عالمی عدالت سے وارنٹ، غزہ کے باشندوں کو اسرائیلی حملے تھمنے کی کم ہی امید
اسرائیل نے وارنٹ گرفتاری اور عدالتی فیصلہ مسترد کر دیا، غزہ پر حملے بدستور جاری
مشرق وسطی -
اسرائیلی حملوں میں 19 افراد ہلاک ہو گئے: شہری دفاع ایجنسی غزہ
مختلف مقامات پر فضائی اور ٹینکوں کے حملے، کئی زخمی
مشرق وسطی