امارات : جمعرات کے روز سے غائب اسرائیلی شہری کے لیے تحقیقات و تلاش شروع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

متحدہ عرب امارات میں اسرائیلی شہری کے جمعرات سے لاپتہ ہونے کے سلسلے میں باقاعدہ طور پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے دفتر نے اپنے اس شہری کے بارے میں ہفتے کے روز ایک بیان جاری کیا ہے۔ جس میں اس کے غائب ہوجانے کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسرائیل کا یہ شہری عرب امارات میں مقیم تھا۔ یہ مالدوو کی شہریت کا بھی حامل ہے۔

یہ اسرائیلی شہری عرب امارات میں انتہائی دائیں بازو کے یہودیوں کے ایک گروہ کے نمائندے کے طور پر مقیم تھا اس کے ذمے تبلیغ اور یہودی قبیلے کے لوگوں کی ہر ممکن خدمت کے امور تھے۔

یہودیوں کا یہ انتہائی دائیں بازو کا آرتھو ڈاکس گروپ دنیا بھر میں اپنے متحرک نمائندوں کے ساتھ موجود ہے اور یہودی مذہب سے دور ہو چکے اورخود کو سیکولر کہلانے والوں کو یہودیت کے بارے میں بتانے اور رام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

متحدہ عرب امارات میں رہتے ہوئے غائب ہو جانے والے اس یہودی مبلغ کا نام ذوی کوگان معلوم ہوا ہے۔ اس کے یہودی گروپ کی ویب سائٹ کے مطابق اس گروہ سےمتعلق امارات میں مقیم عہدے دار امارات میں رہنے یا کسی سلسلے میں آنے واالے یہودیوں کی مدد کرتا ہے۔

انہیں رہائش و دیگر ضروریات کے لیے رہنمائی اور مدد بھی دیتا ہے ۔ نیز انہیں سماجی اعتبار سے تنہائی کا شکار نہیں ہونے دیتا۔

ویب سائٹ کے مطابق یہ یہودی گروہ امارات سے باہر تمام خلیجی ممالک میں یہودیوں کے امور کو اپنے طور پر دیکھتا ہے اور ان کی مدد کے علاوہ انہیں یہودی معاشرت اور مذہب سے جوڑے رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ اپنی مذہبی بنیادوں پر پیش کردہ خدمات کی وجہ سے ہی مشہور ہے۔

متحدہ عرب امارات کے خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اماراتی وزارت داخلہ نے اس لاپتہ ہو چکے یہودی کی تلاش اور لاپتہ ہونے سے متعلق شواہد کی بنیاد پر تحققیات شروع کردی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں