ایک سال کے اندر اسرائیلی حملوں میں ہلاک لبنانی فوجیوں کی تعداد 45 ہو گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لڑائی کا حالیہ سلسلہ تقریبا ایک برس سے جاری ہے۔ اس دوران میں لبنانی فوج کئی بار اسرائیلی حملوں کا نشانہ بنی۔ گذشتہ ہفتے یہ صورت حال شدت اختیار کر گئی جب لبنانی فوج کے مراکز پر تین حملے کیے گئے۔ ان میں آخری حملہ جنوبی لبنان میں العامریہ کے علاقے میں ہوا۔ اس کے نتیجے میں ایک لبنانی فوج ہلاک اور 18 زخمی ہو گئے۔ اس طرح 8 اکتوبر 2023 سے اب تک لبنان پر اسرائیلی حملوں میں مارے جانے والے لبنانی فوجیوں کی مجموعی تعداد 45 ہو گئی ہے۔

بین الاقوامی امور کے لبنانی محقق محمد شمس الدین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ مرنے والے فوجیوں میں سے 19 اہل کار حاضر فوجی تھے اور فوجی حکام نے صرف ان ہی کی موت کا اعلان کیا۔

لبنانی فوج کے ریٹائرڈ بریگیڈیئر جنرل جونی خلف نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ اگرچہ لبنانی فوج کو براہ راست نشانہ بنانے کا کوئی جواز نہیں البتہ عسکری صورت حال کی نوعیت نے حزب اللہ کو لبنانی فوج کے مراکز کے قریب پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ خلف کے نزدیک اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنانے کی یہ کارروائیاں لبنانی فوج کو منظم طور پر ہدف بنانے کے ضمن میں نہیں آئے گا۔ انھوں نے باور کرایا کہ لبنانی فوج کا نشانہ بننا سلامتی کونسل کی قرار داد 1701 کے ترمیم شدہ مسودے کے متن کے منافی ہے۔ اس کی ایک شق میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی امن فوج "یونیفل" کے تعاون سے پوری جنوبی سرحد پر لبنانی فوج کی تعیناتی کو فعال شکل میں مضبوط بنایا جائے۔

معلوم رہے کہ اس وقت جنوبی لیطانی کے علاقے میں لبنانی فوج کے تقریبا 4500 اہل کار تعینات ہیں جب کہ مجوزہ منصوبے کے مطابق فوج کو اس وقت 6000 اہل کاروں کی بھرتی کی ضرورت ہے۔ کچھ عرصہ قبل لبنانی حکومت نے 1500 اہل کاروں کی بھرتی کا فیصلہ کیا تھا۔

لبنانی فوج کے ارکان (آرکائیوز - ایسوسی ایٹڈ پریس)
لبنانی فوج کے ارکان (آرکائیوز - ایسوسی ایٹڈ پریس)

اسرائیلی فوج نے العامریہ میں لبنانی فوج کی بیرک کے نشانہ بننے پر "افسوس" کا اظہار کیا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ کارروائی میں لبنانی فوج کو نہیں بلکہ باریک بینی سے حزب اللہ تنظیم کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق واقعے کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ادھر لبنان میں نگراں حکومت کے وزیر اعظم نجیب میقاتی کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوب میں اسرائیلی فوج کی جانب سے لبنانی فوج کے مرکز کو براہ راست نشانہ بنایا جانا اور اہل کاروں کا ہلاک اور زخمی ہونا یہ ایک براہ راست "خونی پیغام" ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اسرائیل فائر بندی تک پہنچنے کے لیے تمام کوششوں اور حالیہ رابطوں کو مسترد کرتا ہے۔

لبنانی فوج کے ارکان (آرکائیوز - ایسوسی ایٹڈ پریس)
لبنانی فوج کے ارکان (آرکائیوز - ایسوسی ایٹڈ پریس)

انھوں نے عالمی برادری اور متعلقہ بین الاقوامی اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمے داریاں پوری کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں