ڈاکٹروں کی جانب سے جنگ زدہ غزہ سے مشرقی یروشلم تک طبی انخلاء کی اپیل
ہزاروں مریضوں کو بدستور طبی انخلاء کی ضرورت ہے: ڈی جی عالمی ادارۂ صحت
طبی ماہرین اور انسانی حقوق کے گروپوں نے منگل کے روز غزہ سے انسانی ہمدردی کی راہداری کو فوراً کھولنے کا مطالبہ کیا تاکہ مشرقی یروشلم کے ہسپتالوں سے مریضوں کا فوری انخلاء ممکن ہو سکے۔
اسرائیل غزہ کی پٹی سے روانگی کے تمام مقامات کنٹرول کرتا ہے جو غزہ میں ایک سال سے جاری جنگ کی وجہ سے متأثر ہوئی ہے۔
غیر معمولی طبی انخلاء کا اہتمام بین الاقوامی تنظیموں یا بیرونی ممالک نے اسرائیلی حکام کے ساتھ مل کر کیا ہے۔
لیکن جنگ سے بڑھتی ہوئی ہلاکتوں کے درمیان مشرقی یروشلم کے ہسپتالوں کے نیٹ ورک اور فزیشنز فار ہیومن رائٹس اسرائیل (پی ایچ آر آئی) نے غزہ کو طبی بنیادوں پر فوراً مشرقی یروشلم کے لیے دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور اندازہ لگایا ہے کہ غزہ میں تقریباً 25,000 مریضوں کو فوری نگہداشت کی ضرورت ہے۔
مشرقی یروشلم میں آگسٹا وکٹوریہ ہسپتال کے ڈائریکٹر فادی اترش نے کہا کہ انخلا کی راہداری کو دوبارہ کھولنا "ضروری ہے تاکہ ہمرے لیے مشرقی یروشلم کے ہسپتالوں میں ضروری علاج کی فراہمی جاری رکھنا ممکن ہو جہاں ہمارے پاس جگہ اور طبی مہارت دونوں موجود ہیں"۔
غزہ میں جن مریضوں کے لیے علاج کی سہولت فلسطینی سرزمین پر دستیاب نہیں ہوتی تھی، انہیں جنگ سے پہلے اسرائیل سے منسلک مشرقی یروشلم یا مقبوضہ مغربی کنارے کے ہسپتالوں میں اور بعض صورتوں میں اسرائیل منتقل کیا جا سکتا تھا۔
لیکن گذشتہ سال غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ طریقہ کارآمد نہیں رہا۔
نومبر کے اوائل میں غزہ سے تقریباً 200 مریضوں کے غیر معمولی انخلاء کے دوران عالمی ادارۂ صحت نے کہا کہ تقریباً 14,000 افراد طبی انخلاء کے منتظر تھے۔
کچھ دن بعد ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (ایم ایس ایف) نے کہا، "اسرائیلی حکام نے بغیر کسی وضاحت کے غزہ سے اردن کے ایم ایس ایف ہسپتال جانے کے لیے آٹھ بچوں اور ان کے لواحقین کا طبی انخلاء روک دیا جنہیں طبی امداد کی ضرورت ہے۔ ان میں ایک دو سالہ بچہ بھی ہے جس کی ٹانگ کاٹ دی گئی ہے۔
ہم اس فیصلے کی سختی سے مذمت کرتے ہیں۔"
اسرائیلی وزارت دفاع کی فلسطینی علاقوں میں شہری امور کا انتظام کرنے والی ایجنسی سی او جی اے ٹی نے کہا، منگل کے روز غزہ اور اسرائیل کے درمیان کریم شالوم راہداری کے ذریعے "31 مریض اور ان کے لواحقین غزہ سے روانہ ہوئے"۔
اس میں مزید کہا گیا کہ مریضوں کو علاج کے لیے اردن اور امریکہ منتقل کیا جانا تھا۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ 31 افراد میں کینسر کے علاج کے منتظر 11 بچے اور ان کے 20 لواحقین شامل تھے۔
انہوں نے کہا، "غزہ کے طول و عرض میں ہزاروں مریضوں کو بدستور جان بچانے والی نگہداشت کے لیے طبی انخلاء کی ضرورت ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ غزہ کی پٹی سے باہر مریضوں کی محفوظ منتقلی کے لیے تمام راہداریاں استعمال کی جائیں۔"
غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق سات اکتوبر 2023 کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک 105,000 سے زیادہ لوگ زخمی ہو چکے ہیں۔
غزہ کا نظامِ صحت جنگ کی وجہ سے بہت حد تک تباہ ہو چکا ہے اور اب صرف مٹھی بھر طبی سہولیات ہی علاج فراہم کرنے کے قابل ہیں۔