غزہ پر کوئی معاہدہ غیر قانونی ہوگا، میں حمایت نہیں کروں گا: اسرائیلی وزیر بن گویر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

گزشتہ دنوں غزہ کی پٹی میں جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے مذاکرات کی جو رفتار دیکھی گئی۔ اسرائیلی وزیر برائے قومی سلامتی بن گویر نے ایک مرتبہ پھر اس کی مخالفت کر دی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق انتہا پسند وزیر نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کو غیر قانونی سمجھتے ہوئے اس کی حمایت نہیں کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے ریڈ لائنز بالکل واضح ہیں اور غزہ میں جنگ کے مکمل خاتمے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

بن گویر نے عندیہ دیا کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں امیگریشن اور آبادکاری کی حوصلہ افزائی کے لیے امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک منصوبہ پیش کرے گا۔

حماس کا تبصرہ

حماس نے آج ایک بیان میں اس بات کا اعادہ کیا کہ جنگ بندی کا کوئی متبادل نہیں ہے۔ اس نے قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے غزہ کی پٹی سے اسرائیلی انخلا کی شرط پر بھی زور دیا۔ یہ موقف باخبر ذرائع کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا ہے کہ اسرائیلی فریق نے ایک نئی تجویز پیش کی جس میں 42 سے 60 دن کے درمیان عارضی جنگ بندی کی شرط رکھی گئی ہے۔ یاد رہے اگست کے مہینے میں پیش کی جانے والی پچھلی تجویز میں صرف 42 دن کے لیے جنگ بندی کی شرط رکھی گئی تھی۔

واضح رہے تحریک حماس نے پہلے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ اسے چند روز قبل قاہرہ میں ہونے والی مشاورت کے دوران کوئی نئی تجویز موصول نہیں ہوئی تھی۔ ’’ ایکسیوس‘‘ کی رپورٹ کے مطابق نئی تجویز یا اپ ڈیٹ شدہ ورژن تمام زندہ خواتین قیدیوں، 50 سال سے زیادہ عمر کے تمام مرد اور نازک طبی حالات میں مبتلا قیدیوں کی رہائی کی سفارش کر رہا ہے۔

یاد رہے گزشتہ تجویز میں ان زمروں سے 33 اسرائیلی زیر حراست افراد کو زندہ رہا کرنے کی شرط رکھی گئی تھی۔ فلسطینی پٹی میں گزشتہ سال اکتوبر سے اب تک تقریباً 100 اسرائیلی زیر حراست ہیں۔ بعض اسرائیلی اندازوں کے مطابق ان میں سے صرف 50 زندہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں