اقوام متحدہ نے اپنے کچھ ملازمین کو شام سے نکالنے کا اعلان کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام میں تیزی سے رونما ہونے والے واقعات کی روشنی میں وہاں اقوام متحدہ کے دفتر نے ملک میں غیر ضروری ملازمین کو نکالنے کا اعلان کیا۔

دمشق میں اقوام متحدہ کے دفتر نے آج ہفتے کے روز ایک بیان میں وضاحت کی کہ اقوام متحدہ نے صرف غیر ضروری ملازمین کو نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقوام متحدہ شام میں ہی رہنے اور ان مشکل حالات میں شامی عوام کو اپنی تمام خدمات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

اقوام متحدہ کا یہ فیصلہ روس اور چین سمیت متعدد ممالک کی جانب سے شام سے اپنے شہریوں کے انخلاء کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ فوجی کارروائیوں میں اضافے، شامی مسلح دھڑوں کی پیش قدمی، متعدد گورنریٹس پر ان کے کنٹرول کی وجہ سے شام سے انخلا کا اعلان کیا گیا تھا۔

امریکہ اور اردن

جمعے کے روز امریکہ نے اپنے شہریوں سے شام سے نکل جانے کا کہا۔۔ شام میں حزبِ اختلاف کے دھڑوں نے انتہائی تیزی سے کئی بڑے شہروں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ امریکی حکام نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کیے گئے ایک پیغام میں کہا کہ سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ امریکی شہریوں پر زور دیتا ہے کہ وہ شام سے فوری طور پر نکل جائیں جب تک کہ تجارتی سفری آپشنز دستیاب رہیں۔

اردن نے پڑوسی ملک میں ہونے والے واقعات کی وجہ سے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شام میں مقیم اور موجود ہمارے شہری جلد از جلد وہاں سے نکل جائیں۔ اردنی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایک بحرانی گروپ تشکیل دیا گیا ہے جس میں مملکت کی مختلف ریاستی ایجنسیاں شامل ہیں۔ یہ گروپ شام سے اردنی باشندوں کو نکالنے اور ان کی وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرے گا۔

عراق کا شہریوں سے انخلا کی اپیل

اسی دوران عراق نے شام میں اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے وطن واپس آنے کے لیے اپنے ناموں کے اندراج کے لیے دمشق میں عراقی سفارت خانے سے رابطہ کریں۔

خیال رہے 27 نومبر کو ھیئہ تحریر الشام اور اس کے اتحادی دھڑوں نے ملک کے شمال مغرب میں واقع ادلب گورنری سے حکومتی فورسز پر حملہ شروع کیا اور ملک کے دوسرے بڑے شہر حلب پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد حماۃ پر کنٹرول حاصل کیا اور آگے بڑھتے ہوئے حمص کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں