چالیس سال قبل لاپتہ ہونے والے لبنانی کے حماہ جیل ملنے سے لبنان کے پرانے زخم تازہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنانی واٹس ایپ گروپس اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کے ذریعے شام میں باغیوں کے زیرکنٹرول آنے والے حماہ شہر کی سینٹرل جیل سے رہا ہونے والے قیدیوں کی فہرست گردش کررہی ہے۔ ان قیدیوں میں لبنانی خانہ جنگی کے دوران شامی افواج کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد غائب ہونے والا ایک لبنانی بھی شامل ہے۔

گذشتہ روز پورے حماہ شہر پر مسلح دھڑوں کا کنٹرول اور شہر کی جیل میں ان کے داخلے اور وہاں سے قیدیوں کی رہائی نے لبنان کے درجنوں خاندانوں کے درد تازہ کردیے جو کئی دہائیاں گذرنے کے باوجود ابھی تک اپنے پیاروں کو تلاش کررہے تھے۔

حماہ جیل کے باہر کے مناظر
حماہ جیل کے باہر کے مناظر

’یہ علی جیسا لگتا ہے'

سب سے نمایاں تصویر شمالی لبنان کے شہر عکار کے ایک ساٹھ سالہ شخص کی ہے جو تقریباً چالیس سال قبل لاپتہ ہو گیا تھا۔

حماہ کی جیل سے ابھرنے والے اس شخص کی تصویر گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران جنگل کی آگ کی طرح پھیلی۔ اس کے کچھ پڑوسیوں اور جاننے والوں نے کہا کہ وہ "علی حسن العلی" سے بہت مشابہت رکھتا ہے۔ علی کو شامی فوج نے چالیس سال قبل گرفتار کیا تھا۔

تاہم ابھی تک اس شخص کی شناخت اور کیا وہ واقعی ابن عمار الشمالیہ ہے اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اب بھی لگ بھگ 622 لبنانی قیدی ہیں جن کے اہل خانہ کو یقین ہے کہ وہ شام کی جیلوں میں ہیں اور ان کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔

جبکہ لبنان کے سرکاری حکام نے کئی دہائیوں سے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ دمشق نے انہیں مطلع کیا ہے کہ اس کی جیلوں میں فوج داری جرائم کے ملزموں کے علاوہ کوئی لبنانی "سیاسی" یا دیگر قیدی نہیں ہیں۔

گذشتہ ہفتے سے مسلح دھڑوں نے ادلب سے حلب کی طرف اچانک حملہ کیا اور چند ہی دنوں میں پورے شہر پر کنٹرول حاصل کر لیا۔گذشتہ دو روز کے دوران تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے شامی اپوزیشن جنگجوؤں نے حماہ کا کنٹرول بھی سنھبال لیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں