ایران نے شام سے اپنے فوجی کمانڈر اور سفارت کار واپس بلانا شروع کردیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ایک عراقی اہلکار اور ایک علاقائی سفارت کار کے مطابق ایران نے شام سے اپنے کچھ فوجی کمانڈر واپس بلانا شروع کر دیے ہیں۔ دوسری طرف مسلح دھڑوں نے شمال سے دارالحکومت دمشق کی طرف اپنی تیز رفتار پیش قدمی جاری رکھی ہے۔

جمعرات کو حمات شہر پر مسلح دھڑوں کے حملے کے بعد ایران نے جمعے کو پاسداران انقلاب کے سینیئر کمانڈروں کو نکالنا شروع کر دیا تھا۔

’واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق عراقی اہلکار کے مطابق ایران نے غیر ضروری سفارتی عملے اور سفارت کاروں کے اہل خانہ کو بھی دمشق سے نکالنا شروع کردیا ہے۔

عراقی اہلکار کے مطابق ایران نے انخلاء کا حکم اس لیے دیا کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ شام میں تباہی کے بعد اس کا محاصرہ کر لیا جائے گا۔

سفارت خانہ اب بھی کام کر رہا ہے

انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ دمشق میں ایرانی سفارت خانہ اب بھی کام کر رہا ہے۔ علاقائی سفارت کار نے کہا کہ شام سے نکلنے والے زیادہ تر فوجیوں نے دمشق کے ہوائی اڈے سے ہوائی جہاز کے ذریعے شام سے رخت سفر باندھا۔

عراقی اہلکار نے بتایا کہ کچھ لوگوں کو عراقی سرزمین پر منتقل کیا گیا ہے۔

انخلاء سے ایران کی بڑھتی ہوئی تشویش کی نشاندہی ہوتی ہے کہ شامی صدر بشار الاسد اس حملے کو برداشت نہیں کر سکیں گے۔

باغی فورسز نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ وہ دمشق کے شمال میں تقریباً 100 میل دور حمص کے قریب پہنچ رہے ہیں اور انہوں نے شہر کے اندر کم از کم ایک کارروائی کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں