غزہ کے مزاحمت کار گروپ جنگ بندی معاہدے کے لیے یرغمالیوں کی شناخت کریں: حماس

حماس جلد از جلد معاہدے کی خواہاں، ثالثین کے مابین رابطے تیز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

غزہ میں فلسطینی مزاحمت کار گروپوں کے ذرائع نے اتوار کو بتایا ہے کہ حماس نے ان سے یرغمالیوں کے بارے میں معلومات مرتب کرنے کو کہا ہے تاکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی تیاری کی جائے۔

ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ حماس نے فلسطینی اسلامی جہاد، پاپولر فرنٹ اور پاپولر ریزسٹنس کمیٹیوں سمیت دیگر گروہوں سے کہا کہ وہ معلومات تیار کریں مثلاً کہ آیا ان کے یرغمالی زندہ ہیں یا مردہ۔

غزہ میں کل 96 یرغمالی باقی ہیں جن میں سے 34 کی ہلاکت کی اسرائیلی فوج نے تصدیق کر دی ہے۔

حماس کے ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ حماس اور قطری، مصری اور ترک ثالثیں کے درمیان حال ہی میں "تیز تر رابطے" ہوئے ہیں اور گروپ کو قاہرہ میں مذاکرات کا ایک نیا دور "آئندہ دنوں میں شروع ہونے" کی توقع ہے۔

اسی ذریعے نے اسرائیل سے جنگ روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی افواج کی موجودگی نے "زندہ اور مردہ قیدیوں کی تفصیلات جاننے کے لیے تمام اسیر گروپوں تک پہنچنا مشکل کر دیا ہے۔"

یاد رہے کہ حماس کے زیرِ انتظام علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں اور بمباری میں غزہ میں 44,708 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں