غزہ میں فلسطینی مزاحمت کار گروپوں کے ذرائع نے اتوار کو بتایا ہے کہ حماس نے ان سے یرغمالیوں کے بارے میں معلومات مرتب کرنے کو کہا ہے تاکہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کی تیاری کی جائے۔
ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ حماس نے فلسطینی اسلامی جہاد، پاپولر فرنٹ اور پاپولر ریزسٹنس کمیٹیوں سمیت دیگر گروہوں سے کہا کہ وہ معلومات تیار کریں مثلاً کہ آیا ان کے یرغمالی زندہ ہیں یا مردہ۔
غزہ میں کل 96 یرغمالی باقی ہیں جن میں سے 34 کی ہلاکت کی اسرائیلی فوج نے تصدیق کر دی ہے۔
حماس کے ایک ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ حماس اور قطری، مصری اور ترک ثالثیں کے درمیان حال ہی میں "تیز تر رابطے" ہوئے ہیں اور گروپ کو قاہرہ میں مذاکرات کا ایک نیا دور "آئندہ دنوں میں شروع ہونے" کی توقع ہے۔
اسی ذریعے نے اسرائیل سے جنگ روکنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کی افواج کی موجودگی نے "زندہ اور مردہ قیدیوں کی تفصیلات جاننے کے لیے تمام اسیر گروپوں تک پہنچنا مشکل کر دیا ہے۔"
یاد رہے کہ حماس کے زیرِ انتظام علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیلی حملوں اور بمباری میں غزہ میں 44,708 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
-
قطر کی جانب سے جنگ بندی کی امید کے ہمراہ غزہ میں اسرائیلی حملہ: کم از کم 20 افراد ہلاک
قطر اور ٹرمپ انتظامیہ معاہدے کے لیے کوشاں
مشرق وسطی -
غزہ میں اسرائیلی جنگ : 44664 فلسطینی جاں بحق ہو چکے
اسرائیلی فوج نے غزہ میں جاری اپنی جنگ کے 15ویں مہینے کے پہلے روز تک 44664 ...
مشرق وسطی -
حماس نے غزہ کے یرغمالی کی ویڈیو جاری کر دی
یرغمالی خاندانوں کے فورم نے اس ویڈیو کو "زندگی کا ثبوت" قرار دیا ہے
مشرق وسطی