ترک حمایت یافتہ شامی گروہوں کا شمال میں کردوں کے زیرِ قبضہ علاقے پر حملہ: 26 افراد ہلاک

منبج شہر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے: باغیوں کا ٹیلی گرام چینل پر بیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترکیہ کے حمایت یافتہ شامی باغیوں نے کردوں کے زیرِ قبضہ علاقہ چھیننے کے چند دن بعد شمالی منبج کے علاقے پر حملہ کیا جس میں اتوار کو کم از کم 26 باغی ہلاک ہو گئے۔

ترکیہ کے حامی باغیوں نے گذشتہ ہفتے کردوں کے زیرِ قبضہ تل رفعت انکلیو پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔ اس سے چند دن قبل باغیوں نے حکومت کے زیرِ قبضہ علاقوں میں داخل ہو کر اہم شہروں پر قبضہ کر لیا تھا اور پھر اتوار کو دمشق پہنچ گئے۔

جنگی نگراں ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے کہا، "ترک حامی گروہوں نے منبج ملٹری کونسل کے ساتھ پرتشدد جھڑپوں کے بعد مشرقی حلب کے دیہی علاقوں میں منبج شہر کے بڑے اضلاع پر قبضہ کر لیا۔"

یہ کونسل کردوں کے زیرِ قیادت سیریئن ڈیموکریٹک فورسز (ایس ڈی ایف) سے منسلک ہے جو شمال مشرقی شام کے بڑے حصے کو کنٹرول کرنے والی کرد انتظامیہ کے لیے عملاً ایک فوج کے طور پر کام کرتی ہے۔

جنگی نگران آبزرویٹری نے کہا، "جھڑپوں میں نو ترک نواز اور منبج ملٹری کونسل کے کم از کم 17" باغی ہلاک ہو گئے۔

امریکی حمایت یافتہ ایس ڈی ایف نے بھی "شدید جھڑپوں" کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ منبج اور الباب میں فوجی کونسلیں ترک حمایت یافتہ باغیوں کو "سخت ضربیں لگا رہی ہیں"۔

گروہوں نے منبج پر کنٹرول کا اعلان کرتے ہوئے باغیوں کی ویڈیوز پوسٹ کیں جن کا تعلق علاقے کے اندر سے بتایا جاتا ہے۔

اے ایف پی آزادانہ طور پر ان ویڈیوز کی تصدیق نہیں کر سکا۔

اتوار کے اوائل میں ایس ڈی ایف کے کمانڈر مظلوم عبدی نے صدر بشار الاسد کی "آمرانہ حکومت" کے خاتمے کے "تاریخی" لمحات کا خیر مقدم کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں