صحرا کے جادو کے ساتھ انسان کی جدو جہد پر مبنی سعودی فلم ’ہوبال‘ نمائش کے لیے پیش

فلم کے واقعات موسم خزاں کی راتوں میں صحرا کی گہرائی اور جادو پر مشتمل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

سعودی عرب میں ریڈ سی فلم فیسٹیول کی جانب سے ایک نئی فلم’ہوبال‘ ریلیز کی گئی ہے جس کی نمائش جاری ہے۔ صحرا کے خاموش اور پرسکون جادوئی ماحول پر بنائی گئی فلم دیکھنے والوں کا سینماؤں میں کھڑکی توڑ رش دیکھا جا رہا ہے۔

فلم ہوبال کی نمائش کے موقعے پر سعودی عرب میں چوتھے ریڈ سی فلم فیسٹیول کا مرکزی ہال ناقدین، بین الاقوامی فلم سازوں اور سینما کے جادو سے محبت کرنے والے جدہ کے ناظرین سے کھچا کھچ بھرگیا تھا۔ عبدالعزیز الشلاحی کی ہدایت کاری میں بننے والی سعودی فلم ’ہوبال‘ نے فیسٹیول کے شائقین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔’ہوبال‘ ایک جامع تصنیف ہے جسے مفرح المجفل نے لکھا ہے۔ اس پر بنائی گئی فلم کی ہدایت کاری عبدالعزیز الشلاحی نے کی ہے جب کہ فلم میں مشعل المطیری، میلا الزہرانی، ابراہیم الحساوی،گلو کار فواز، عبدالرحمن عبداللہ، دریعاں الدریعان، حمدی الفریدی، ریم فہد اور نورہ الحمیدی جیسے مشہور ادکاروں نے اس میں ادکاری کےجوہر دکھائے ہیں۔

فلم کی شوٹنگ کے دوران عملہ
فلم کی شوٹنگ کے دوران عملہ

فلم کے واقعات صحرا کی گہرائیوں میں شروع ہوتے ہیں اور موسم خزاں کی راتوں میں اس کے جادوئی ماحول کوبھی شامل کیا گیا ہے۔ ایک منظر میں ایک سفید خیمے کو الگ تھلگ کیا گیا ہے جو ایک نوجوان لڑکی کے المیے کو چھپاتا ہے۔ یہ لڑکی خسرہ کی بیماری سے دوچار ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے اس کے گھر والے اسے الگ تھلگ کردیتے ہیں۔ کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ یہ متعدی بیماری اس کےکپڑوں سے دوسرے لوگوں تک نہ پہنچ جائے۔

یہ کہانی مرکزی پلاٹ سے جڑی ہوئی ہے جو خاندان کے سربراہ "لیام" کے گرد گھومتی ہے۔ فلم میں لیام کا کردار ابراہیم الحساوی نے ادا کیا ہے۔ یہ ایک اسی سالہ شخص ہے جس کا یقین ہے کہ قیامت کی نشانیاں قریب آ گئی ہیں۔ وہ قرب قیامت کے خوف سے وہ اپنے خاندان کو الگ تھلگ کردیتا ہے اور تہذیب کے پھندے سے ہٹ کر سخت طرز زندگی پر عمل کرتا ہے۔

صحرائی ماحول کے باوجود فلم میں رومانوی مناظر بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔اس فلم کے دوران ایک نوجوان ’عساف‘ نامی نوجوان اپنی کزن "ریفہ" سے پیار کرتا ہے، جو خسرہ کا شکار ہے۔ وہ اس کے علاج کی تلاش میں اپنے دادا کی ہدایات کی نافرمانی کا فیصلہ کرتا ہے۔ عساف ریفہ کے علاج کی کوششیں جاری رکھتا ہےلیکن اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جب کہ یہ بیماری خاندان میں زیادہ پھیل جاتی ہے۔ اس کے کھونے کا خوف بڑھ جاتا ہے۔ کہانی میں بتایا گیا ہے کہ خسرہ کی وجہ سے ریفہ کے خاندان کے متعدد افراد موت سے ہمکنار ہوچکے ہیں۔ عساف کی ایک دوسری کزن بھی اسی بیماری سے انتقال کرگئی تھی۔

کنبے کے سربراہ کے انتقال کے بعد خاندان میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہوتا ہے۔ کچھ افراد فوت ہونے والے اپنے بزرگ کی تعلیمات اور ہدایات پر عمل کرتے ہوئے تنہائی میں رہنے پر زور دیتے ہیں جب کہ دوسروں کا خیال ہے کہ خاندان کو الگ تھلگ رہنے کا فیصلہ ترک کرکے گاؤں کی تلاش میں جانا چاہیے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں