تحریر الشام تنظیم کے قائد احمد الشرع نے جو 'ابو محمد الجولانی' کے نام سے جانے جاتے ہیں، کہا ہے کہ شامی عوام برسوں کی جنگ کے باعث "تھکے" ہوئے ہیں اور ملک میں کوئی دوسری جنگ نہیں ہو گی۔
منگل کے روز برطانوی ٹی وی چینل اسکائی نیوز پر نشر ہونے والے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ "لوگ جنگ کے مارے ہوئے ہیں، لہذا یہ ملک کسی دوسری جنگ کے لیے تیار نہیں، اور وہ کسی اور جنگ میں ہر گز مصروف نہیں ہو گا"۔
اس سے قبل منگل کو ہی احمد الشرع نے زور دیا تھا کہ عسکری کارروائیوں کی انتظامیہ قاتلوں کا اور شامیوں پر تشدد میں ملوث سیکورٹی اور فوجی افسران کا احتساب کرنے میں کسی تردد کا شکار نہیں ہو گی۔ الشرع نے ایک بیان میں کہا کہ "ہم جنگ کے مجرموں کا تعاقب کریں گے اور جن ممالک کو وہ فرار ہو گئے ہیں ان سے مطالبہ کر کے واپس لائیں گے تا کہ انھیں منصفانہ سزا مل سکے"۔
تحریر الشام کے قائد نے مزید کہا کہ "جرائم میں ملوث بڑے ناموں کی فہرست کا اعلان کیا جائے گا ... مزید یہ کہ جنگی جرائم میں ملوث سینئر فوجی اور سیکورٹی افسران کے بارے میں معلومات دینے والے کو انعام بھی پیش کیا جائے گا"۔
الشرع نے واضح کیا کہ عسکری قیادت ان افراد سے درگزر کرے گی جن کے ہاتھ شامی عوام کے خون سے لتھڑے ہوئے نہیں ہیں۔ اسی طرح جبری فوجی خدمت پر مامور افراد کو بھی رعائت دی جائے گی۔
یاد رہے کہ شام میں مسلح اپوزیشن گروپوں نے تقریبا دو ہفتے قبل شام میں کئی علاقوں پر حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد حلب، حماہ، حمص اور پھر دار الحکومت دمشق پر ان کا کنٹرول ہو گیا۔
آٹھ دسمبر کو بشار الاسد کی حکومت کے سقوط کا اعلان کیا گیا جو روس چلا گیا جہاں اسے پناہ کا انسانی حق مل گیا۔
اسی طرح ملک میں تمام جیلوں کو کھول دیا گیا جہاں سے سیکڑوں قیدی آزاد ہو گئے۔