میں نے بشارلاسد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے جواب نہیں دیا:شامی وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شام میں عبوری حکومت کے اعلان کے ایک دن بعد شام کے سابق وزیر اعظم محمد الجلالی نے کہا ہے ان کی حکومت نے تمام فائلیں نگراں حکومت کو منتقل کر دی ہیں۔

وزیر ٹرانسپورٹ ملک چھوڑ کر چلے گئے

الجلالی نے العربیہ/الحدث کو مزید کہا کہ وہ اور وزراء نظر بند نہیں ہیں۔ وہ داخلہ اور دفاع کے وزراء سے رابطےسے قاصر ہیں۔

انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ وزیر ٹرانسپورٹ نے ملک چھوڑ دیا۔ وزیر خارجہ دمشق سے باہر کسی اور گورنری میں ہیں۔ اس لیے انہوں نے کل کی میٹنگز میں شرکت نہیں کی۔

سابقہ حکومت کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں ہر فیصلے پر دستخط کرنے سے پہلے سابق صدر بشار الاسد کے سامنے پیش کرنا ہوتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے قریبی لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا کہ میں الاسد کی حکومت میں نہیں رہنا چاہتا۔

ٹیلی فون کی ہدایات

جلالی نے انکشاف کیا کہ بشارالاسد کی طرف سے ہدایات صرف فون کے ذریعے آتی تھیں۔انہیں ان سے بات چیت کیے بغیر ان کی ہدایات پر عمل درآمد کرنا پڑتا تھا دو مہینوں میں وہ الاسد سے صرف دو بار ملے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انھوں نے اتوار کی صبح بشارلاسد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انھوں نے جواب نہیں دیا۔

ملک میں حکمران بعث پارٹی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ ایک عجیب ڈھانچہ ہے۔

دریں اثنا سابق وزیر اعظم نے تصدیق کی کہ دارالحکومت کی صورتحال اب مستحکم ہے۔

’اقتدار کی منتقلی‘

یہ بات قابل ذکر ہے کہ صدر بشار الاسد کا تختہ الٹنے والے شامی حزب اختلاف کے دھڑوں کی قیادت نے سوموار کے روز "اقتدار کی منتقلی" کے بارے میں بات چیت شروع کر دی تھی۔

حکومت نے اپنا پہلا اجلاس کل دارالحکومت دمشق میں نامزد وزیر اعظم اور سابق وزیر اعظم محمد الجلالی کی موجودگی میں منعقد کیا جہاں البشیر نے وزیر اعظم کے دفتر کی عمارت سے تصدیق کی کہ انہیں باضابطہ طور پر سربراہی سونپی گئی ہے۔ حکومت نے نشاندہی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی میٹنگ ایگزیکٹو اختیارات کی منتقلی پر مرکوز تھی۔

انہوں نے کہا کہ عبوری حکومت عبوری دور کے دوران عوامی انتظامی امور کی نگرانی کرے گی، جو یکم مارچ کو ختم ہو سکتی ہے۔

"نیا شام"

قابل ذکر ہے کہ محمد البشیر کی تقرری ھیۃ تحریر الشام کے رہ نما ابو محمد الجولانی اور سابق وزیر اعظم محمد الجلالی کے درمیان "اقتدار کی منتقلی کو مربوط بنانے کے لیے" ہونے والی ملاقات کے اگلے دن عمل میں آئی ہے۔

عوامی اسمبلی نے "نئے شام" کی تعمیر کے لیے عوام کی مرضی کی حمایت کا اعلان کیا، جب کہ بعث پارٹی کے سیکریٹری جنرل ابراہیم الحدید نے کہا کہ ہم شام میں ایک عبوری مرحلے کے حامی رہیں گے جس کا مقصد شام کا دفاع کرنا ، ملک کی زمین، عوام ، اداروں اور صلاحیتوں کا اتحاد یقینی بنانا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں